اس سرزمین پر اسلامی انقلاب برپا کرکے دکھائینگے، ہمارا عزم اور جدوجہد کمزور نہیں کیا جا سکتا/مولانا فضل الرحمن

پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ مقتدرہ نے جمہوریت پر قبضہ کر لیا ہے اور غیر جمہوری لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کی ہے

اشتہارات

چارسدہ(چ،پ) جمعیت علمائے اسلام سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مولانا شیخ ادریس کی شہادت کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا نقصان ہے، تاہم ایسی قربانیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

چارسدہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا شیخ ادریس کی روح زندہ ہے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سرزمین پر اسلام کا انقلاب برپا کرکے دکھائیں گے اور دشمن سن لے کہ خون بہانے سے ہمارے عزم اور جدوجہد کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی پشت پر دو سو سالہ تاریخ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک برصغیر میں قیادت علما کے ہاتھ میں رہی، معاشرے میں امن قائم رہا، تاہم علما سے قیادت چھیننے کے بعد فساد اور بدامنی نے جنم لیا۔

قائد جمعیت نے موجودہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں جبکہ آج ہر پاکستانی امن کی تلاش میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لسانیت اور قومیت کے نام پر نفرتیں پھیلائی گئیں لیکن جمعیت علمائے اسلام نے ایسے تمام نظریات اور نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انسانی جان سستی ہو چکی ہے، اسلام کا نام لینے والے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی صرف پاکستان اور افغانستان میں کیوں ہے جبکہ دیگر اسلامی ممالک اس صورتحال کا شکار نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ عالمی استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لیے خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں نقصان پہنچایا گیا تو وہ کسی فرد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرائیں گے بلکہ ریاست پاکستان کو اپنے قتل کا ذمہ دار قرار دیں گے۔

خطاب کے دوران انہوں نے صدر مملکت کو دیے جانے والے ممکنہ قانونی استثنیٰ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انبیا کرام، رسول اکرم ۖ اور خلفائے راشدین نے اپنے لیے اس قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں کیا تو موجودہ حکمرانوں کو بھی ایسا حق حاصل نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں غریب آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہے جبکہ حکمران مراعات اور عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام عوام کے حقوق اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے۔