چترال کے مختلف علاقوں میں امراض چشم کے حوالے سے 9 روزہ فری میڈیکل کیمپس کا شیڈول جاری
دور دراز علاقوں میں 9 روزہ مفت آنکھوں کی دیکھ بھال اور موتیابند سرجری مہم 27 جون سے شروع ہوگی

چترال(چ،پ) عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور بالخصوص دور افتادہ علاقوں کے مکینوں کو بینائی سے متعلق علاج کی سہولت مہیا کرنے کے لیے اپر اور لوئر چترال میں 27 جون سے 5 جولائی 2026 تک نو روزہ مفت آنکھوں کی دیکھ بھال اور موتیابند کی جراحی مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس مہم کے دوران مختلف علاقوں میں طبی کیمپ لگائے جائیں گے، جہاں ماہرین امراض چشم عوام کا مفت معائنہ، بینائی کی اسکریننگ، ریفریکشن ٹیسٹ، ضرورت مند افراد میں عینکوں کی تقسیم اور موتیابند کے مریضوں کی تشخیص کریں گے۔
تشخیص کے بعد منتخب مریضوں کے مفت آپریشن 4 جولائی کو چترال سکاؤٹس ہسپتال میں کیے جائیں گے۔
مہم کا آغاز 27 جون کو اسلام آباد اور پشاور سے طبی ٹیموں کی دروش روانگی سے ہوگا، جہاں مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعارفی ملاقاتوں کے بعد اگلے روز باقاعدہ طبی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔
پہلا مفت طبی کیمپ 28 جون کو شیشیکو کے ایک مقامی سکول میں منعقد ہوگا، جہاں بینائی کی اسکریننگ، ریفریکشن ٹیسٹ اور عینکوں کی مفت تقسیم کی جائے گی۔ دوسرا کیمپ 29 جون کو دروش نغور میں منعقد ہوگا، جہاں یہی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
30 جون کو ٹیم تورکھو کے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) شاگرام میں طبی کیمپ لگائے گی، جبکہ یکم جولائی کو موڑکہو کے رورل ہیلتھ سینٹر میں شہریوں کا معائنہ کیا جائے گا۔ ان دونوں کیمپوں میں عمومی بینائی کے معائنے کے ساتھ ساتھ موتیابند کے مریضوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی تاکہ انہیں آپریشن کے لیے منتخب کیا جا سکے۔
2 جولائی کو چترال سکاؤٹس ہسپتال میں ایک خصوصی اسکریننگ کیمپ منعقد ہوگا، جہاں آخری مرحلے کے مریضوں کا معائنہ اور سرجری کے لیے حتمی فہرست مرتب کی جائے گی۔
3 جولائی کو آپریشنز کی تیاری، مریضوں کی جانچ اور سرجنز کی آمد کے انتظامات مکمل کیے جائیں گے، جبکہ 4 جولائی کو چترال سکاؤٹس ہسپتال میں خصوصی آپریٹنگ تھیٹر ڈے کے دوران منتخب مریضوں کی مفت موتیابند سرجریاں انجام دی جائیں گی۔ مہم 5 جولائی کو ٹیم کی اسلام آباد واپسی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔
منتظمین کے مطابق ہر طبی کیمپ صبح آٹھ بجے بیس کیمپ سے روانگی کے بعد تقریباً دس بجے شروع ہوگا اور سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گا۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی صورتحال کے پیش نظر ٹیموں کو ضرورت کے مطابق شیڈول میں معمولی تبدیلی کے لیے بھی تیار رکھا گیا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد چترال کے ان دور افتادہ اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں تک معیاری خدمات پہنچانا ہے جہاں لوگوں کو آنکھوں کے علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔
توقع ہے کہ اس مہم کے ذریعے سینکڑوں افراد کی بینائی کا معائنہ کیا جائے گا، متعدد افراد کو مفت عینکیں فراہم کی جائیں گی جبکہ موتیابند کے مریضوں کو جدید اور مفت جراحی سہولت بھی میسر آئے گی، جس سے ان کی زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔