اسلام آباد سے چترالی نوجوان نورالدین کی گمشدگی، پولیس کی ٹیمیں تفتیش میں مصروف، مغوی کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

اسلام آباد(چ،پ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والا چترالی کاروباری نوجوان نور الدین کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے ۔
نورالدین کی اسلام آباد سے اچانک لاپتہ ہونے سے نہ صرف انکے خاندان والوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے بلکہ انکے ساتھ کاروباری لین دین رکھنے والے افراد بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔
کاروباری نوجوان نور الدین یکم مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے تھے اور انکے بھائی کی رپورٹ پر تھانہ آبپارہ میں ایف آئی آر درج ہو چکا ہے تاہم ابھی تک نورالدین کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔
اس کیس کے سلسلے میں کی تفتیش جاری ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کی تین مختلف ٹیمیں کیس کی تفتیش کے سلسلے میں کام کر رہی ہیں۔
اسلام آباد کے ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین نے نورالدین کی گمشدگی کیس کی تحقیقات اور انکی بازیابی کے لئے ایس ڈی پی او سیکرٹریٹ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ایس ایچ او تھانہ کوہسار، ایس ایچ او تھانہ آبپارہ اور ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ شامل ہیں اور اس ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیس میں پیش رفت کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کریں۔
اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق انکی ترجیح نہ صرف نورالدین کی بحفاظت بازیابی ہے بلکہ اس واقعے میں ملوث عناصر تک پہنچنا بھی ہے اور اس حوالے سے پولیس پیشہ وارانہ طریقے سے کام کر رہی ہے۔
منگل کے روز نورالدین کے اغواء کاروں کی طرف سے انکا ایک ویڈیو جاری کردیا گیا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں نقاب پوش افراد نورالدین پر تشدد کر رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں مغوی نورالدین التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں اغواء کار انکی رہائی کیلئے 5 کروڑ روپے مانگ رہے ہیں۔
اس کیس کے سلسلے میں اسلام آباد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور مزید افراد سے پوچھ گچھ کیا جا رہا ہے۔