شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کے خلاف جے یو آئی چترال کا احتجاج

سوشل میڈیا میں متنازعہ پوسٹ کے حوالے سے اسمعیلی کونسل کے قرارداد کی حمایت

اشتہارات

چترال (بشیرحسین آزاد) جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) لوئر چترال کے زیر اہتمام شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کے خلاف اتالیق پل پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیر جمعیت علماء اسلام لوئر چترال مولانا عبد الرحمن نے اسماعیلیہ کونسل کی جانب سے صابر سلیم کے خلاف منظور کی گئی مذمتی قرارداد اور درج ایف آئی آر کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں موجود شرپسند عناصر چترال اور گلگت کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، تاہم علاقے کے عوام ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

احتجاجی مظاہرہ سے مولانا عبد الرحمن کے علاوہ صدر اے این پی الحاج عید الحسین، جماعت اسلامی کے مولانا اسرار الدین الہلال اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ملک میں علماء کو ناحق قتل کیا جا رہا ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال کسی بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں واضح ہے کہ اگر ریاست قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا ریاست کو چاہیے کہ فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چترال کے عوام ہر قسم کی فرقہ واریت اور انتشار کے خلاف متحد ہیں اور امن و بھائی چارے کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام طبقات مل کر کردار ادا کرتے رہیں گے۔