چترال میں موبائل نیٹ ورک کے مسائل، مسلم لیگ ن کا سیاسی جماعتوں پر کریڈٹ چوری کا الزام

اشتہارات

چترال(چ،پ) مسلم لیگ (ن) چترال کے رہنما اور وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام چترال لوئر کے کوارڈینیٹر حفیظ اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چترال کے باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ موبائل نیٹ ورک کے مسئلے کو سب سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ کس سیاسی قیادت نے اٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی غزالہ انجم نے اس اہم عوامی مسئلے کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا، جس کے بعد متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے چترال اپر اور چترال لوئر کا دورہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران مختلف موبائل ٹاورز کا تکنیکی معائنہ کیا گیا اور کئی مقامات پر نئے ٹاورز کی تنصیب کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کیے گئے۔ تاہم ان کے مطابق جیسے ہی عملی کام کا آغاز ہوا، بعض سیاسی جماعتیں اس منصوبے کا کریڈٹ لینے کی دوڑ میں شامل ہوگئیں۔

حفیظ اللہ نے کہا کہ کچھ عناصر، جو ماضی میں اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا نہ کرسکے، اب دوسروں کی کاوشوں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عوام حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ موبائل ٹاورز کی تنصیب سیاسی بیانات یا دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ متعلقہ کمپنیوں کے تکنیکی سروے، آبادی، جغرافیائی حالات اور مالی و تکنیکی جائزے کے بعد کی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر کسی بھی علاقے میں نیٹ ورک کی توسیع کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل مقصد سیاسی کریڈٹ حاصل کرنا نہیں بلکہ چترال کے عوام کو موبائل نیٹ ورک کے دیرینہ مسائل سے نجات دلانا ہونا چاہیے۔

حفیظ اللہ نے مزید کہا کہ اگر چترال اپر یا چترال لوئر کے کسی بھی علاقے میں اب بھی موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ موجود ہے تو عوام علاقے کا نام، ٹاور نمبر اور مسئلے کی تفصیل فراہم کریں تاکہ اسے متعلقہ حکام تک پہنچا کر فوری حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔