چترال میں پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مظاہرہ، ایم این اے عبداللطیف کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان

اشتہارات

چترال (بشیرحسین آزاد) پاکستان تحریک انصاف چترال نے ایک بڑے عوامی اجتماع اور ریلی کے ذریعے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حلقہ این اے- 1 سے منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف کی اڈیالہ جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے چترال سے اسلام آباد کے ڈی چوک تک لانگ مارچ کریں گے۔

اس سلسلے میں سینکڑوں کارکنوں نے ایک بڑی ریلی نکالی جو اتالیق پل کے قریب بائی پاس چوک پر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور اسیر ایم این اے کے بھائی عبدالرزاق نے کہا کہ ان کے بھائی کو 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں بوگس ایف آئی آر کے تحت قید رکھا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ عبداللطیف کو وفاداری بدلنے کے لیے بھاری رقوم کی پیشکش کی گئی اور دباؤ ڈالا گیا، لیکن انہوں نے چترال کی غیرت اور اپنے نظریے کا سودا نہیں کیا۔

عبدالرزاق کا مزید کہنا تھا کہ ”عبداللطیف پورے چترال کا فخر ہیں، وہ ایک پڑھے لکھے اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے لیڈر ہیں جو قومی اتحاد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے چترال کے عوام اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر پارٹی رہنماؤں رضیت باللہ، حاجی شفیق الرحمن، حاجی سلطان، شاہد احمد اور ثمین خان  نے کہا کہ عبداللطیف 63 ہزار ووٹروں کے نمائندے ہیں اور انہیں جیل میں رکھنا چترال کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔

تجار یونین کے صدر نور احمد خان نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے واضح کیا کہ اگر عبداللطیف کو جلد رہا نہ کیا گیا تو چترال سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیا جائے گا جس کی تمام تر انتظامیہ اور حکمرانوں پر ہوگی۔