طالبان رجیم سے بڑھتی مایوسی، نورستان میں عوامی اضطراب شدت اختیار کر گیا
افغان طالبان کی غیر سنجیدہ رویے اور غلط فیصلوں سے عوام نالاں، انتہائی اقدام اٹھانے کی وارننگ

پشاور (م،ڈ) افغانستان کی طالبان رجیم کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے افغانستان کے صوبہ نورستان کے مشرقی اضلاع برگمٹال اور کامدیش کی درجنوں وادیوں میں عوامی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا ہے، جہاں ہزاروں افراد گزشتہ کئی ہفتوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے علاقے میں بے چینی اور اضطراب کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مشرقی نورستان عملاً ملک کے دیگر حصوں سے کٹ چکا ہے، جس کے باعث خوراک، ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
افغان طالبان رجیم کی غیر سنجیدہ رویے اور اقدامات کی وجہ سے تقریباً چالیس روز سے جاری اس محصور کیفیت نے عوام کے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور مقامی لوگ افغان حکومت کے پالیسیوں کے خلاف ناراضگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
افغان طالبان رجیم نے فروری کے مہینے میں بلا اشتعال اور بلا وجہ ارندو سیکٹر میں پاکستانی سکیورٹی افواج پر حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے لڑائی کے پہلے ہی دن 10 سے زائد افغان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا، جن میں سے 5 کی لاشیں کئی دن تک بارڈر لائن پر پڑی رہیں۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے ٹرانسپورٹ اور کمک پہنچانے کے لیے سویلین گاڑیوں کا استعمال شروع کر دیا، تاہم پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مرکزی شاہراہ پر ان کی نقل و حرکت کو روک دیا۔
بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان فورسز نے پاکستان کے سرحدی علاقے ارندو میں سویلین آبادی اور املاک کو نشانہ بنانا شروع کردیا جس کا افواج پاکستان نے نہایت موثر انداز میں جواب دیا اور افغان فورسز کے غیر دانشمندانہ اقدامات اور غلط فیصلوں کے باعث مشرقی نورستان کی واحد سڑک بند ہو گئی۔
حالیہ دنوں میں عوامی دباؤ کے پیش نظر نورستان کے گورنر نے دشوار گزار پہاڑی راستوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ صوبہ کنڑ کے علاقے غازی آباد سے نئی سڑک تعمیر کر کے زمینی رابطہ بحال کیا جائے گا۔
اس سے قبل بھی برف ہٹا کر صوبائی دارالحکومت پارون تک راستہ کھولنے کے اعلانات کیے گئے تھے، جو تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
مقامی افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مشکلات اجاگر کرنا شروع کر دی ہیں جس سے حکومتی کارکردگی پر عوامی اعتماد میں کمی واضح ہو رہی ہے۔ بعض متاثرین کے مطابق وہ 12 سے 14 گھنٹے طویل اور خطرناک پہاڑی سفر طے کر کے صوبائی مرکز "پڑون” پہنچے ہیں اور اب اپنی آواز حکام اور دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔
شدید مشکلات سے تنگ آ کر بعض علاقوں میں عوام نے احتجاج بھی کیا، جس کے بعد صوبائی حکام متحرک ہوئے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں آزاد میڈیا کی عدم موجودگی، حکومتی دباؤ اور ممکنہ انتقامی کارروائیوں کے خوف کے باعث عوام کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پا رہے۔
سوشل میڈیا پر بعض مقامی صارفین نے شکوہ کیا ہے کہ ماضی میں دیگر علاقوں میں آنے والی قدرتی آفات کے دوران پوری افغان قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، تاہم مشرقی نورستان کے موجودہ بحران میں نہ حکومت اور نہ ہی عوام کی جانب سے خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے۔
نورستان سے تعلق رکھنے والے بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس علاقے میں پاکستانی طالبان کی موجودگی کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مقامی لوگوں کی موجودگی اور حکام کی طرف سے انکی حوصلہ کی وجہ سے اس علاقے (نورستان) کے آبائی لوگوں کو تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، کچھ صارفین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو وہ انتہائی اقدامات کے طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق پر غور کرینگے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا میں نورستان سے تعلق رکھنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں جنگ کو بڑھانا افغان فورسز کی سنگین غلطی تھی کیونکہ یہ علاقہ نسبتاً پر امن تھا، مگر افغان طالبان رجیم نے غیر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پرامن علاقے کو جنگ میں دھکیل دیا، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی حلقوں کے مطابق اگر غازی آباد سے نئی سڑک کی تعمیر شروع بھی کی جاتی ہے تو اس کی تکمیل میں کئی ماہ درکار ہوں گے، جبکہ یہ راستہ بھی دشوار گزار اور خطرات سے خالی نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران ارندو سیکٹر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد نورستان کو کنڑ سے ملانے والی اہم شاہراہ منقطع ہو چکی ہے، جس کے باعث نہ صرف مقامی آبادی بلکہ افغان فورسز کو بھی شدید لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے اور رسد کی ترسیل بری طرح متاثر ہو چکی ہےجو کہ علاقے میں انکی بڑی جنگی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔
ارندو سیکٹر میں تعینات پاکستانی سیکورٹی فورسز نے پیشہ وارانہ مہارت اور حکمت عملی کے تحت اس پہاڑی خطے میں افغان فورسز کی سپلائی لائن منقطع کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان اٹھا کر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔