چترال یونائیٹڈ فورم کا تعارفی اجلاس، منشیات کے خلاف سوسائٹی کے قیام کی منظوری

اشتہارات

چترال(بشیر حسین آزاد) چترال یونائیٹڈ فورم کا ایک اہم تعارفی اجلاس آج البخارہ ہوٹل چترال میں سابق ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی الحاج عید الحسین نے کی، جبکہ سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل محمد علی خان خصوصی مہمان تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ محفل حاجی مغفرت شاہ نے چترال یونائیٹڈ فورم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور اس امید کا اظہار کیا کہ فورم کے پلیٹ فارم سے چترال کو درپیش مختلف سماجی مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

انہوں نے منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کے پیشِ نظر "ڈرگ ٹریفکنگ کنٹرول سوسائٹی چترال” کے قیام کی تجویز پیش کی، جسے شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

اس موقع پر ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے تحت نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ کو ڈرگ ٹریفکنگ کنٹرول سوسائٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں مولانا عبدالشکور، حاجی عید الحسین، صفت زرین، محمد کوثر چغتائی، شریف حسین، گل حسین، مہربان خان، قاضی سلامت اللہ، صوبیدار، اشفاق علی خان، واجد علی خان اور سرور کمال شامل ہیں۔

خصوصی مہمان محمد علی خان نے اس پلیٹ فارم کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کے لیے باقاعدہ دفتر قائم کیا جائے تاکہ سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

بعد ازاں حاجی مغفرت شاہ کی قیادت میں نو تشکیل شدہ کمیٹی کے اراکین نے ڈپٹی کمشنر چترال راؤ ہاشم عظیم سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ڈپٹی کمشنر نے ڈرگ ٹریفکنگ کنٹرول سوسائٹی کے قیام کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے تفصیلی بریفنگ کے بعد جمعرات کے روز ڈپٹی کمشنر آفس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، سرکاری افسران، ڈی پی او اور ڈی ایچ او کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے الحاج عید الحسین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہمیشہ سماجی خدمات میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس موقع پر دیگر شرکاء نے بھی سماجی روابط کے فروغ اور مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے ڈاکٹر رفیق علی خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بصیرت اور کاوشوں سے چترال میں منشیات کی اسمگلنگ اور جرائم کے خلاف ایک مؤثر پلیٹ فارم کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے اس منصوبے کے لیے چترال اور بونی میں مالی معاونت بھی فراہم کی ہے اور سماجی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو کر منشیات کے ناسور کے خلاف جدوجہد کریں تاکہ نوجوان نسل کو اس خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔