بلدیاتی نمائندگان کی مدت میں توسیع، ماہرین نے غیر مناسب اور جمہوریت کے منافی قرار دے دیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی چار سالہ آئینی مدت اختتام کے قریب پہنچنے کے ساتھ ہی بلدیاتی نمائندگان کی جانب سے مدت میں توسیع اور فنڈز کی فراہمی اور اضافے کے مطالبات سامنے آئے ہیں، جنہیں بعض حلقوں کی جانب سے غیر حقیقت پسندانہ اور جمہوری روایات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبے میں پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندگان کی مدت رواں ماہ مارچ میں جبکہ دوسرے مرحلے کے نمائندگان کی مدت جون میں مکمل ہو رہی ہے۔
تاہم اس دوران مختلف علاقوں سے بلدیاتی نمائندگان نے اپنی مدت میں توسیع اور اضافی فنڈز کے حصول کے لیے احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبہ اس لحاظ سے متضاد دکھائی دیتا ہے کہ یہی نمائندگان گزشتہ چار برسوں سے موجودہ بلدیاتی نظام کو مسلسل کمزور، بے اختیار اور غیر مؤثر قرار دیتے رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر نظام واقعی بے اختیار اور فنڈز سے محروم تھا تو پھر اسی نظام میں مزید مدت کے لیے توسیع کا مطالبہ اپنی جگہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلدیاتی ادارے آئینی و قانونی ڈھانچے کے تحت لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں، اس لیے ان کی مدت ختم ہونے کے بعد جمہوری اصولوں کے مطابق نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔
کسی بھی ادارے کی مدت میں توسیع کے بجائے بروقت الیکشن جمہوری عمل کو مضبوط بناتے ہیں اور عوام کو نئے نمائندوں کے انتخاب کا حق دیتے ہیں۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ضلع کونسل کی بحالی، بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات کی فراہمی اور مناسب فنڈز کی دستیابی ناگزیر ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ محض موجودہ نمائندگان کی مدت میں توسیع نہ تو عوامی مسائل کا حل ہے اور نہ ہی اس سے بلدیاتی نظام مضبوط ہوگا۔
اس کے برعکس بروقت انتخابات اور مؤثر اصلاحات ہی مقامی حکومتوں کو فعال بنانے کا واحد راستہ ہیں۔