جماعت اسلامی کی “کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ” تحریک کے تحت چترال شہر میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ

چترال (بشیرحسین آزاد) جماعت اسلامی چترال لوئر کے زیرِ اہتمام ”کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ“ تحریک کے سلسلے میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرے کی صدارت امیر جماعت اسلامی چترال لوئر وجیہ الدین نے کی جبکہ صوبائی نائب امیر حاجی مغفرت شاہ، مولانا جمشید احمد، اے این پی کے صدر الحاج عید الحسین اور ٹی ٹی آر ایف اپر چترال کے رہنما عمیر خلیل اللہ نے خصوصی خطاب کیا۔
مقررین نے چترال میں جاری کرپشن پر صوبائی حکومت (پی ٹی آئی) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف محکموں میں کرپشن کا حجم کوہستان میگا اسکینڈل سے بھی بڑا ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزارتِ کھیل و سیاحت کے ٹاؤن بیوٹیفیکیشن منصوبے کے 32 کروڑ روپے کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اے ڈی پی (ADP)، ایم اینڈ آر (M&R) اور ایمرجنٹ فنڈز سمیت ٹی ایم اے چترال اور دروش میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے مختص کروڑوں روپے مبینہ طور پر غبن کر لیے گئے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس چترال اور یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر برسوں سے رکی ہوئی ہے۔
ڑاوی ہائیڈرو پاور منصوبہ تعطل کا شکار ہے، جو اہلیانِ چترال کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
مقررین نے ارندو میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹمبر مافیا اور بعض سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے چترال کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اربوں روپے مالیت کی لاکھوں فٹ لکڑی کی غیر قانونی کٹائی کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور موجودہ اسٹاک کو مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر کے جنگلاتی علاقوں کے عوام کو ان کا جائز حصہ دیا جائے۔
جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حکومتی خاموشی اور تحقیقات میں عدم دلچسپی قابلِ افسوس ہے۔ تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اگلے جمعہ کو دروش میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
اس کے بعد احتجاج کا دائرہ تمام ویلیج کونسلز (VCs) تک پھیلا دیا جائے گا۔
مقررین نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک چترال کے عوام کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے اور کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا، یہ تحریک جاری رہے گی۔