دروش میں سیاسی جماعتوں کے درمیان تنازعہ مقامی عمائدین کی کوششوں سے خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا

ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مقامی مشران کی کوششیں رنگ لے آئیں؛ سیاسی و عوامی حلقوں کا خیر مقدم

اشتہارات

​​چترال (بشیرحسین آزاد) گزشتہ روز سینیٹر محمد طلحہ محمود کی دروش آمد کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔

ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دروش کے مقامی مشران کی بروقت مداخلت اور مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے تنازعہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

سینیٹر طلحہ محمود کے دورہ چترال کے دوران دروش چوک میں دونوں جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

تاہم ضلعی انتظامیہ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوری اقدامات کیے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس تصفیے کے سلسلے میں دروش کے معزز مشران اور عمائدین نےخصوصی کوششیں کیں۔مقامی عمائدین میں قاری جمال عبدالناصر، مولانا احتشام الحق، شہزادہ سریر الدین، شہزادہ شوکت الملک ، وی سی چیئرمین دامیل گل حمید جان، وی سی چیئرمین ارندو عبدالمجید و دیگر شامل تھے ۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف رضیت با اللہ، ضلع جنرل سیکرٹری سید فرید حسین جان ایڈوکیٹ کی قیادت میں قائدین اور پیپلز پارٹی کی طرف تحصیل صدر غازی خان وردگ، حاجی شیر زمین وردگ کی قیادت میں اراکین موجود تھے۔

فریقین نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر چترال کی روایتی اقدار، بھائی چارے اور امن و امان کو ترجیح دیتے ہوئے اسے "انا کا مسئلہ” نہیں بنایا۔ صلح کی تقریب میں دونوں فریقین کے ذمہ داران نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، تلخیوں کو فراموش کیا اور مستقبل میں برداشت کی فضا برقرار رکھنے کا عزم کیا۔

سیاسی اور عوامی حلقوں نے اس صلح کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ چترال اپنی روایتی امن پسندی اور مہمان نوازی کے لیے جانا جاتا ہے، اور اس تنازعے کا پرامن حل یہاں کے لوگوں کی شعوری پختگی کا ثبوت ہے۔

انتظامیہ اور پولیس کی کاوشوں کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے ماحول کو مزید خراب ہونے سے بچایا۔

​اس موقع پر امید ظاہر کی گئی کہ چترال میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران برداشت اور جمہوری رویوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ علاقے کا مثالی امن ہمیشہ برقرار رہے گی۔