بونی میں آل پارٹیز اجلاس، ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی کی حالت زار پر افسوس کا اظہار، اصلاح احوال کا مطالبہ

اشتہارات

بونی (چترال پوسٹ) اپر چترال کے صدر مقام بونی میں آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوا جسکی صدارت سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن نے کی۔ اجلاس میں علاقے کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا اور اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری اقدامات کی تنبیہ کی گئی۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق شرکاء نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کی خستہ حالی پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اپر چترال کو ضلع بنے کئی سال گزر چکے ہیں، تاہم بونی ہسپتال کو تاحال ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ نہیں دیا گیا۔

ہسپتال میں طبی سہولیات کی کمی، ڈاکٹروں کی قلت اور ماہر امراضِ نسواں کی عدم دستیابی کے باعث عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شرکاء کے مطابق عوام کو زچہ و بچہ کے کیسز کے لیے بونی میں قائم نجی ہسپتالوں سے مہنگی فیس ادا کرانا پڑتی ہے جو غریب طبقے پر ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی میں تعمیراتی کام 11 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا، جو متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔

شرکاء نے چترال کے لیے مخصوص کوٹے پر میڈیکل کی نشستیں حاصل کرنے والے طلبہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر بن کر چترال میں خدمات انجام نہ دینا شرمناک عمل ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ضمن میں واضح اور مؤثر ضابطہ کار مرتب کیا جائے۔

آل پارٹیز اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی گئی کہ پشاور سے اپر چترال آنے والی گاڑیاں رات کے اوقات میں سفر کرتی ہیں جس سے عوام کو شدید تکلیف اور حادثات کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ ٹرانسپورٹرز کے لیے ضابطہ بنایا جائے اور رات کے سفر پر پابندی عائد کی جائے۔

اجلاس میں ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کے مقامی دکانداروں کے ساتھ رویے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی اصلاح کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

منظور شدہ قرارداد میں ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ اگر مذکورہ مسائل کی طرف فوری توجہ دے کر انہیں حل نہ کیا گیا تو فروری کے پہلے ہفتے میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔