خیبر پختونخوا کے جنگلات تباہی کے دہانے پر: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ٹمبر مافیا بے لگام، سیٹلائٹ شواہد نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

چترال(چ،پ) چترال سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ کے راہنما شہزادہ افتخار الدین نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے حوالے سے تشویشناک حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔
ایک موقر انگریزی روزنامے میں چھپنے والے اپنے آرٹیکل میں شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ 2013 کے بعد سے خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی قیادت میں بننے والی حکومتوں کے دوران صوبے کے جنگلاتی وسائل کو تاریخ کے بدترین اور غیر معمولی نقصان کا سامنا ہے۔
آزاد ذرائع، جدید سائنسی جائزوں اور سیٹلائٹ تصاویر کے زمانی تجزیے، جن میں گوگل ارتھ جیسے اوپن سورس پلیٹ فارمز شامل ہیں، اس امر کی واضح تصدیق کرتے ہیں کہ صوبے کے متعدد علاقوں میں جنگلاتی رقبہ مسلسل، منظم اور بڑے پیمانے پر کم ہوتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق لکڑی مافیا کی جانب سے برسوں سے جاری جنگلاتی لوٹ مار میں اس عرصے کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا جس نے خیبر پختونخوا کے جنگلات کی ماحولیاتی سالمیت، حیاتیاتی تنوع اور پائیداری کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ اور قانون کے نفاذ کو مضبوط بنانے کے بجائے، مختلف ادوار میں متعارف کرائی گئی پالیسیوں نے نہ صرف جنگلاتی نظامِ حکمرانی کو کمزور کیا بلکہ خیبر پختونخوا فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ پائیدار جنگلاتی انتظام کے اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔
پالیسیوں کے نام پر تجارتی لوٹ مار کیلئے راہیں مرتب کی گئیں۔
تحقیقات کے مطابق مختلف ناموں سے متعارف کرائی گئی پالیسیاں، جن میں نام نہاد وُڈ لاٹ اسکیمیں، سوکھے اور مردہ درختوں کی کٹائی کی اجازت، اور کوہستان و چترال جیسے ماحولیاتی طور پر نہایت حساس علاقوں میں غیر پابند اور لچکدار کٹائی کے قواعد شامل ہیں، عملاً تحفظ کے بجائے بڑے پیمانے پر تجارتی استحصال کا ذریعہ بن گئیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں قانونی حدود کو یکسر نظرانداز کیا گیا، جس سے مقامی جنگلات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، حیاتیاتی تنوع تیزی سے ختم ہوا اور موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ میں آئے جنگلاتی ماحولیاتی نظام کی مزاحمت کمزور پڑ گئی۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ہزارہ ڈویژن میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ایکڑ گزرا جنگلات کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی تجویز سامنے آئی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان قیمتی جنگلات کو کمرشل ہاؤسنگ منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔
مکنئیال فاریسٹ اس کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں جنگلاتی زمین کو رئیل اسٹیٹ کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی کی قلت کے خلاف علاقے کی ایک اہم قدرتی ڈھال کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔
ارندو گول کے علاقے میں لکڑی مافیا کی طاقت کی کھلی تصویر کے طور پر سامنے آئی ہے۔
افغان سرحد کے قریب واقع چترال کا حساس علاقہ ارندو گول لکڑی مافیا کی طاقت اور ریاستی کمزوری کی ایک اور چونکا دینے والی مثال بن چکا ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق سن 2000 کے بعد سے یہاں 35 فیصد جنگلات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اندازاً 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی لکڑی افغانستان اسمگل کیے جانے کے شواہد موجود ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 2025 میں اقوامِ متحدہ سے خطاب کے دوران سیلابوں سے ہونے والے 34 ارب ڈالر کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔
ان کے مطابق عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے تخمینوں کے تحت 2010، 2015، 2022 اور 2025 کے چار بڑے سیلابوں سے پاکستان کو مجموعی طور پر 91 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جو ملک کی تقریباً دس سالہ جی ڈی پی نمو کے برابر ہے۔
ماہرین اور مبصرین کے مطابق فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی اور لکڑی اسمگلنگ کے باعث پاکستان کا ماحولیاتی بحران مزید گہرا ہو چکا ہے۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی نسبتاً بہتر کارکردگی کے برعکس فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی مسلسل سوالیہ نشان بنی رہی، جہاں تبادلوں اور تقرریوں میں لکڑی مافیا کے اثر و رسوخ کی شکایات عام ہیں۔
2025 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.5 ارب ڈالر کی ماحولیاتی امداد کا اعلان کیا گیا، تاہم یہ رقم تاحال عملی صورت اختیار نہیں کر سکی۔ ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ عالمی مدد واقعی وفاقی و صوبائی حکومتوں کو جنگلات کے تحفظ اور لکڑی مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات پر مجبور کر سکے گی یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق سوات اور چترال میں قائم لکڑی کے بڑے سرمایہ کاروں اور ان کے کمیشن ایجنٹس کی مالی سرگرمیوں کا جائزہ خیبر پختونخوا کی ٹمبر پالیسی کی ایک تاریک تصویر پیش کرتا ہے، جہاں لکڑی کی آمدن کا بڑا حصہ چند طاقتور حلقے ہڑپ کر لیتے ہیں جبکہ 95 فیصد مقامی آبادی بدستور غربت اور محرومی کا شکار ہے۔
معتبر جائزوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے باقی ماندہ قدرتی جنگلات میں سے تقریباً 27 فیصد اس وقت شدید خطرے میں ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں بھی کمرشل اور رہائشی منصوبوں کی نذر کر دیا جائے گا۔ حتیٰ کہ مارگلہ ہلز، جو قدرتی ورثے کی علامت سمجھے جاتے ہیں، بے لگام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث تجاوزات اور تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ محض ماحولیاتی خلاف ورزی نہیں بلکہ عوامی سلامتی، موسمیاتی مزاحمت، آبی تحفظ اور جنگلات پر انحصار کرنے والی آبادیوں کے روزگار کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے۔
جنگلات کی تباہی سیلابی خطرات، مٹی کے کٹاؤ، آبی نظام میں بگاڑ اور غربت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جو ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
شہزادہ افتخارالدین نے اپنے مضمون میں جنگلاتی علاقے میں رہنے والے کمیونٹیز کی طرف واضح مطالبات سامنے رکھے ہیں جو کہ ذیل پر مشتمل ہیں؛
خیبر پختونخوا کی جنگلاتی علاقوں کی مقامی کمیونٹیز نے حکومت سے درج ذیل فوری مطالبات کیے ہیں
جنگلات کی ڈی نوٹیفکیشن اور کمرشل مقاصد کے لیے زمین کی تبدیلی پر فوری پابندی
2014 سے اب تک جنگلاتی رقبے میں تبدیلی کا آزاد، سیٹلائٹ پر مبنی آڈٹ
جنگلاتی تباہی میں ملوث پالیسی فیصلوں اور افسران کا شفاف احتساب
صوبائی پالیسیوں کو فاریسٹ آرڈیننس 2002 اور عالمی ماحولیاتی معاہدوں سے ہم آہنگ کرنا
مقامی روزگار کے مواقع اور ایندھن کی لکڑی کے متبادل کے لیے فوری اقدامات
جنگلات کو قومی اہمیت کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر تسلیم کرنا
شہزادہ افتخارالدین نے مقامی کمیونٹیز کی طرف سے آرمی چیف، وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے منظم اور فیصلہ کن کارروائی کی اپیل کی ہے تاکہ لکڑی مافیا کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے اور لوٹا گیا پیسہ مقامی برادریوں کو واپس دلایا جا سکے۔