اسرائیل اور بھارت دنیا میں مسلمانوں کیخلاف دو دشمن ریاست اور حکومتیں ہیں/جنرل سمیع سادات

نریندر مودی مسلمانوں کا دشمن ہے وہ افغان مسلمانوں کا ہمدرد کیسے ہو سکتا ہے، انٹرویو

اشتہارات

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)افغانستان آرمی کے سابق ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات نے کہا ہے کہ موجودہ وقت میں دنیا کے تمام ممالک اور حکومتوں میں صرف دو ممالک اور ان کی حکومتیں ایسی ہیں جو کھلے طور پر مسلمانوں کے خون کی پیاسی اور مسلم دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جن میں ایک اسرائیل اور دوسرا نریندر مودی کی قیادت میں بھارت شامل ہے۔

معروف پاکستانی صحافی حسن خان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کر تے ہوئے ْ سابق افغان جنرل نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں پر جاری ظلم و بربریت پوری دنیا کے سامنے ہے، جبکہ بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف جبر، ناانصافی اور انتہاپسندانہ کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کے مطابق مودی دورِ حکومت میں بھارتی مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تشخص کو منظم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے کاروبار، جائیداد اور املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، مساجد اور دیگر مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جاتی ہے، اور یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے مسلم دشمن ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے۔

بھارت اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق افغان جنرل نے کہا کہ جو شخص اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کا دشمن بن چکا ہو، وہ افغانستان کے مسلمانوں کا دوست کیسے ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی پالیسیوں کا بنیادی مقصد خطے میں مسلمانوں کو کمزور کرنا اور تقسیم در تقسیم پیدا کرنا ہے اور افغان طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھانے کے پیچھے مسلم دوستی کے بجائے پاکستان دشمنی کا عنصر کار فرما ہے ۔

تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل اس انٹرویو میں جنرل سمیع سادات نے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات، افغان مہاجرین کے مسئلے، افغانستان کی موجودہ داخلی صورتحال، طالبان مخالف تحریک، افغان عوام کو درپیش سنگین مشکلات اور خطے کے ہمسایہ ممالک کے کردار پر بھی تفصیل سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی پالیسیوں کا خاتمہ اور انصاف پر مبنی طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے۔