کالاش کمیونٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر پولیس کی کاروائی، 3 ایم پی او کے تحت ملزم ضلع بدر

چترال(چ،پ) ضلعی پولیس لوئر چترال نے سوشل میڈیا پر کالاش کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز اور تضحیک آمیز مواد شیئر کرنے کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہے اور ملوث ملزم کو ضلع بدر کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک نوجوان کی جانب سے کالاش کمیونٹی کی بچیوں کے بارے میں نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال رفعت اللہ خان نے فوری طور پر ایک خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔
انکوائری کمیٹی نے وائرل ویڈیو میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوان اور دیگر متعلقہ افراد کے بارے میں تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ ڈی پی او لوئر چترال کو پیش کی۔
موصولہ رپورٹ کی روشنی میں ڈی پی او لوئر چترال نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو تھری ایم پی او کے تحت ضلع بدر کر کے جیل منتقل کر دیا۔
اس کے علاوہ ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر ایک کانسٹیبل کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث دیگر ذمہ داران، بشمول سوشل میڈیا پیجز اور اکاؤنٹس، کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کا نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا توہین آمیز مواد شیئر کرنا قطعی طور پر ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے تمام افراد جو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یا توہین آمیز ویڈیوز اپلوڈ یا وائرل کرتے ہیں، کسی گروہ یا مخصوص مسلک کو نشانہ بناتے ہیں، بغیر تصدیق مواد پھیلاتے ہیں، یا جعلی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز چلاتے ہیں، ان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔