تاجکستان کے سرحدی علاقے میں افغانستان سے ڈرون حملہ، چائنیز تعمیراتی کمپنی کے تین اہلکار ہلاک
تاجک وزارت خارجہ کی طرف واقعے کی مذمت، افغان حکومت سے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

اسلام آباد(م،ڈ) تاجکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان سے ہونے والے ایک ڈرون حملے میں چائنیز کمپنی کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
تاجک وزارت خارجہ کے سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ روز سرحدی علاقے "ختلون” کے موضع "استقلال” میں پیش آیا ہے۔
مسلح ڈرون کے ذریعے علاقے میں کام کرنے والی چینی کنسٹرکشن کمپنی "ایل ایل سی شاہین ایس ایم” کے کارکنوں کے رہائشی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کمپنی کے تین چائنیز ا ہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تاجکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ سرحدی خطے میں پر امن ماحول کو برقرار رکھنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود افغان علاقے میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے ایسے مجرمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جوکہ افسوسناک ہے۔
تاجکستان کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے اپنے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے سرحدی علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے افغان حکومت اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کیخلاف موثر اقدامات اٹھائے۔