پیپلز پارٹی قائدین میں بیان بازی؛ سابق صوبائی وزیر سلیم خان اور شہزادہ خالد پرویز آمنے سامنے

اشتہارات

چترال(چ،پ) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کے قائدین ایک دوسرے کے سامنے آگئے، الزامات لگا دئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال لوئر میں اہم قائدین ایکدوسرے سامنے آگئے، سابق صوبائی وزیر اور پارٹی کے صوبائی نائب صدر سلیم خان نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی لیڈر شہزادہ خالد پرویز اور سید برہان شاہ ایڈوکیٹ کا پارٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، یہ دونوں پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے اخباری بیان میں پیپلز پارٹی لوئر چترال کی ضلعی قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے خبروں کو صرف قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

سلیم خان کی طرف سے یہ بیان سوشل میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ بہت جلد پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت میں تبدیلی کی جارہی ہے اور شہزادہ خالد پرویز کو ضلعی صدر، سید برہان شاہ ایڈوکیٹ کو جنرل سیکرٹری اور معروف سینئر صحافی شاہ مراد بیگ کو سیکرٹری اطلاعات مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

سلیم خان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے سابق چیئرمین تحصیل کونسل دروش شہزادہ خالد پرویز نے کہا کہ انکی دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے مشاورت اور مرکزی قیادت کی منظوری سے ہوئی ہے اور سلیم خان بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں مگر اب سلیم خان کی طرف سے بے رخی اختیار کرنا عجیب بات ہے۔

انہوں نے پارٹی وفاداری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی چھوڑنے کی بات کی جائے تو 2002 میں سلیم خان نے پارٹی سے منہ موڑ کر ضلعی نائب نظامت کا الیکشن لڑا اور پارٹی کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا، اسی طرح 2013 کے الیکشن میں پارٹی کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی کے بجائے ایک آزاد امیدوار کی حمایت کرکے پارٹی پالیسی اور احکامات کو پاؤں تلے روند ڈالا۔

دونوں راہنماؤں کے ان بیانات نے چترال میں پیپلز پارٹی کے اندر تقسیم کو واضح کردیا ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ خالد پرویز حال ہی میں دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خالد پرویز کی پیپلز پارٹی میں شمولیت یکدم نہیں ہوئی بلکہ صوبائی اور مرکزی سطح پر طویل مشاورت اور سیاسی معاملات پر نظر رکھنے کے بعد صوبائی اور مرکزی قیادت کی طرف سے گرین سگنل ملنے پر ہوا ہے۔