اپر چترال میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس پر خصوصی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی

اشتہارات

چترال (نمائندہ خصوصی) اپر چترال میں ٹیلی نار سمیت مختلف ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی ناقص سروس کے حوالے سے عوامی شکایات سننے اور حل کی راہیں تلاش کرنے کے لیے ایک خصوصی کھلی کچہری ٹی ایم اے ہال مستوج میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر اپر چترال حسیب الرحمن خان خلیل نے کی۔

کچہری میں ایم این اے غزالہ انجم کے فوکل پرسن محمد کوثر ایڈوکیٹ کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے ذمہ داران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس و پلاننگ)، ، ٹیلی نار، جاز، یوفون، پی ٹی سی ایل ایکسچینج کے ذمہ داران، منتخب نمائندگان، عمائدین اور سماجی و سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔

عوام نے شکایات کے انبار لگا دیے اور کہا کہ ٹیلی نار کی مسلسل کمزور سروس نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایزی لوڈ ضائع ہو رہا ہے، عزیز و اقارب سے رابطے منقطع ہیں جبکہ انٹرنیٹ بندش سے طلبہ کی آن لائن تعلیم، امتحانی فارم جمع کرانا اور سرکاری امور سخت متاثر ہو رہے ہیں۔

شرکاء نے جاز کی بہتر سروس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار کو مزید علاقوں تک وسعت دینے کا مطالبہ کیا۔

ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے واضح کیا کہ ناقص ٹیلی کمیونیکیشن سروسز نہ صرف دفتری امور کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار اور سیاحت جیسے اہم شعبے بھی اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی اے اور نیٹ ورک کمپنیوں کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شندور روڈ کی تکمیل کے بعد خطے میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، اس لیے نیٹ ورک کمپنیوں کے لیے یہ سرمایہ کاری کا سنہری موقع ہے۔

پی ٹی اے کے نمائندوں نے عوامی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بہت جلد اپر چترال کے عوام کو بہتری کی صورت میں خوش خبری ملے گی۔

کھلی کچہری خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جہاں عوام نے اس امید کا اظہار کیا کہ شکایات کو عملی طور پر حل کیا جائے گا اور مواصلاتی سہولیات میں واضح بہتری آئے گی۔

یاد رہے چترال میں موبائل نیٹ ورک کے مسائل کے حوالے رکن قومی اسمبلی غزالہ انجم نے چیئرمین پی ٹی اے سے خصوصی ملاقات کرکے انہیں چترال کے میں موبائل صارفین کے مشکلات سے آگاہ کرکے ان مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی تھی جس پر پی ٹی اے کے چیئرمین نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیکر اسے چترال روانہ کر دیا ہے جو کہ اس مسئلے کے حل کے لئے سیلولر کمپنیوں کے ساتھ ملکر جائزہ لے رہی ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے اقدامات اٹھائے جائینگے۔