دو ماہ قبل پشاور حادثے میں چترال سے تعلق رکھنے والی خاتون اور بچہ جاں بحق ہوئے، مگر اصل ملزم آزاد، سینیٹر پر انگلیاں اٹھنے لگیں

اشتہارات

چترال (سوشل میڈیا ڈیسک)22 جولائی 2025 کی شب رِنگ روڈ پشاور کے قریب بی آر ٹی اسٹیشن وزیر کالونی کے پاس ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں چترال سے تعلق رکھنے والے عبدالصمد کی اہلیہ جان کی بازی ہار گئیں۔ اہل خانہ کے مطابق مرحومہ امید سے تھیں اور ایک دو روز میں بچے کی پیدائش متوقع تھی، تاہم حادثے کے نتیجے میں ماں اور بچہ دونوں زندگی کی بازی ہار گئے۔

عبدالصمد نے سوشل میڈیا میں اس تمام صورتحال پر اپنا موقف جاری کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

عبدالصمد کے مطابق وہ اہل خانہ کے ہمراہ سڑک کراس کر رہے تھے کہ ایک گاڑی نے غفلت اور تیز رفتاری کے باعث ان کی اہلیہ کو زور دار ٹکر ماری۔ واقعے کے بعد گاڑی سے ایک بااثر شخص بمعہ مسلح پولیس اہلکار اترا جسے انہوں نے فوری موقع پر دبوچ بھی لیا اور وہ شخص بعد ازاں موقع سے فرار ہو گیا۔ زخمی خاتون کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکیں۔

بعد ازاں تھانہ پہاڑی پورہ میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ اصل ملزم کی بجائے کسی اور شخص کو نامزد کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ عبدالصمد کے بقول اصل ڈرائیور کو بچانے کے لیے بااثر حلقوں نے اثر و رسوخ استعمال کیا اور نامزد شخص کو راتوں رات ضمانت پر رہا کرا دیا گیا۔

متاثرہ شخص نے کہا کہ حادثے میں ملوث گاڑی بلٹ پروف تھی جس کا تعلق سینیٹر ہدایت اللہ (اے این پی) سے بتایا گیا ہے۔

عبدالصمد نے با اثر شخصیت کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر ہدایت اللہ کا ذکر کیا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ انہی با اثر شخصیت نے جرگے کے ذریعے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں سینیٹر  نے خود کو اس کیس سے الگ کر نے کا خود ساختہ دعویٰ کیا اور انصاف کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی۔

عبدالصمد نے شدید رنج و غم کے ساتھ کہا کہ یہ صرف ان کا ذاتی کیس نہیں بلکہ قانون، انصاف اور انسانیت کی جنگ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ:

اصل ڈرائیور کو گرفتار کر کے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی جائے،

شناخت پریڈ کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں

ایف آئی آر میں درستگی کر کے اصل ملزم کو شامل تفتیش کیا جائے

غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے

انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس کیس میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

عبدالصمد کی جانب سے یہ معاملہ سوشل میڈیا میں آنے کے بعد عوامی حلقوں نے اس پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے پشاور پولیس کی کارکردگی پر افسوس کیا ہے۔

عوامی حلقوں نے اس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر کی مبینہ بے حسی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اس جانب توجہ مبذول کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔