متوفیہ شہلا یعقوب کیس؛ ڈی پی او اپر چترال کی نشکوہ آمد، لواحقین سے ملاقات اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا

چترال(چ۔پ)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر چترال حمیداللہ(پی ایس پی) نے ایس پی انویسٹی گیشن اجمل خان کے ہمراہ موڑکہو کے گاؤں نشکوہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متوفیہ شہلا یعقوب کے لواحقین سے ملاقات کی اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
اس موقع پر ڈی پی او حمیداللہ نے لواحقین اور مقامی عمائدین کو کیس کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اپر چترال پولیس جدید تکنیکی وسائل اور شواہد کی روشنی میں تفتیش کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سی ڈی آر سمیت اہم شواہد حاصل کیے جا چکے ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات میں مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اور بہت جلد ملوث ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ڈی پی او اپر چترال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اپر چترال پولیس میرٹ کو ہر حال میں مقدم رکھے گی اور کیس میں ملوث ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق 14 اگست کو شہلا یعقوب کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ موڑکہو میں درج ہوئی تھی، جس کے بعد 21 اگست کو اغواء کی دفعات کے تحت ایف آئی آر بھی کاٹی گئی۔ تفتیش کے دوران متوفیہ کی چپل اور ایک تحریر دریا کے قریب سے برآمد ہوئی، جسے فرانزک جانچ کے لیے بھجوایا گیا۔ بعد ازاں 24 اگست کو شہلا رضا کی نعش ملی، جس کے پوسٹ مارٹم کے مطابق موت پانی میں ڈوبنے (asphyxia by drowning) سے واقع ہوئی۔
ڈی پی او حمیداللہ نے واضح کیا کہ پولیس جدید سائنسی اور تکنیکی وسائل استعمال کرتے ہوئے تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور تمام شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔