افغان مہاجرین کی واپسی کے موقع پر انکے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور گھریلو سامان کی خریداری میں استحصال نہ کیا جائے، عوامی حلقے

اشتہارات

چترال(بشیر حسین آزاد) چترال کے سماجی و عوامی حلقوں نے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے موقع پر مبینہ طور پر بعض مقامی افراد ان کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور سامان کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ اسلامی اخوت اور کاروباری اخلاقیات کے صریح منافی ہے۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں افغان مہاجرین نے چترال میں شادیاں کیں، مکانات تعمیر کیے، ان کے بچے یہاں کے سکولوں میں زیر تعلیم رہے، مقامی زبان سیکھی اور مقامی معاشرت کا حصہ بنے۔ اس طویل تعلق کے باعث افغان مہاجرین کو کبھی اجنبی یا غیر نہیں سمجھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ حکومت کی ہدایت پر افغان شہری اپنے وطن واپس جا رہے ہیں تو ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمتی جائیداد یا سامان انتہائی کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ بنیادی انسانی اخلاقیات کے بھی خلاف ہے۔

سماجی حلقوں نے مقامی افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نازک گھڑی میں احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور افغان مہاجرین کو مزید مشکلات اور نقصان سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔