CTD نے سوات میں کاروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا

سوات(مانیٹرنگ ڈیسک) سوات میں ایک مربوط انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں سی ٹی ڈی سوات نے مقامی پولیس کی مدد سے باریکوٹ کے علاقے پرائی میں مقابلے کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
فتنہ الخوارج کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ خفیہ اطلاع پر ایک ٹارگٹڈ چھاپہ مارا گیا، مشتبہ افراد نے سی ٹی ڈی ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
سی ٹی ڈی نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے تینوں عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی شناخت اجمل عرف وقاص ولد عبدالغفار، ساکن ملک آباد، مینگورہ جو کہ نو دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں ولیج ڈیفنس کمیٹی (VDC) کے ارکان کی ٹارگٹ کلنگ، ایک وکیل کے قتل کی کوشش، اور شہریوں سے بھتہ خوری شامل ہے۔ اس کی گرفتاری یا خاتمے کے لیے 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
مطیع اللہ عرف اسحاق/جنید ولد عبرت شاہ، ساکن دبسر مارٹنگ، ضلع شانگلہ جو کہ دو دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے منسلک تھا اور رحیم اللہ رحمانی عرف روح اللہ ولد امان اللہ، ساکن شیری، نورستان، افغانستان اور یہ بھی دو دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جو ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسندوں کی سہولت کاری سے وابستہ تھا۔
ہلاک ہونے والے فتنہ خوارج ٹی ٹی پی سے منسلک ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ایک وسیع آپریشنل ایجنڈے کے ساتھ اس علاقے میں داخل ہو ئے تھے۔
یہ گروہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قافلوں کو نشانہ بنانے والے آئی ای ڈی دھماکے، پولیس چوکیوں اور انفراسٹرکچر پر مسلح حملوں اور حالیہ واقعات میں کم از کم تین پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث تھی۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یہ سیل بیرون ملک مقیم، بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والے ہینڈلرز کی ہدایت پر کام کر رہا تھا اور سیکیورٹی فورسز، عوام اور ریاست کے حامی افراد پر حملوں میں شدت لانے کے فعال منصوبے بنا رہا تھا۔