31 جولائی سے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن بند کرنے کا فیصلہ

ملازمین کے لئے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم مرتب کیا جا رہا ہے، ادارہ مسلسل خسارے کا شکار ہے، اس وقت خسارہ بڑھ کر 15 ارب تک پہنچ چکا ہے

اشتہارات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش اور نجکاری کی نگرانی کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اسٹیبلشمنٹ، خزانہ، اور صنعت و پیداوار ڈویژنوں کے سیکریٹریز، یو ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کو یو ایس سی کی بندش کے عمل کو شفاف اور ہموار بنانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے جس کے تحت ملازمین کے لیے ایک منصفانہ رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (VSS) تیار کرنا اور نجکاری کے لیے ایک واضح ٹائم لائن کی سفارش کرنا شامل ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس کی قیادت اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری کریں گے اور اس میں خزانہ اور صنعت و پیداوار ڈویژنوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

یہ ذیلی کمیٹی مجوزہ VSS کے قانونی و عملی ڈھانچے، دائرہ کار اور ساخت کا جائزہ لے گی اور ہفتے کے اختتام تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

یہ رپورٹ مرکزی کمیٹی کو وزیر اعظم کو اس کے دائرہ کار کے مطابق حتمی سفارشات پیش کرنے میں مدد دے گی۔

اجلاس میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے 31 جولائی تک یو ایس سی کی تمام سرگرمیاں ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کی۔

یہ بھی تجویز دی گئی کہ نجکاری کمیشن سے مشاورت کی جائے تاکہ یو ایس سی کی نجکاری کے لیے مؤثر ترین ماڈل کا تعین کیا جا سکے، جس میں مکمل نجکاری یا جزوی اثاثہ جات کی فروخت جیسے آپشنز کی جانچ شامل ہو۔

1971 میں قائم کی گئی یو ایس سی ایک سرکاری ادارہ ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ سبسڈی نرخوں پر فراہم کرنا ہے۔ فی الحال یہ ادارہ ملک بھر میں 4,000 سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس چلا رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ مالی سال 2024-25 کی پہلی ششماہی کی اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs) کارکردگی رپورٹ کے مطابق، یو ایس سی کو چھ ماہ میں 4.1 ارب روپے کا خسارہ ہوا جبکہ مجموعی خسارہ بڑھ کر 15.5 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو اس ادارے کو درپیش مسلسل ساختی اور عملی مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔