پاک بھارت کشیدگی، مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پرنمایاں ہونے لگا

چترال(چ،پ)پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر "مسئلہ کشمیر” کو عالمی سطح پر نمایاں کردیا ۔ پھچلے 6 سالوں میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر اہمیت پکڑ لی ہے جو کہ پاکستان اور کشمیری عوام کی بڑی کامیابی ہے، وہ لوگ جو مسئلہ کشمیر کوپس پشت ڈالے ہوئے تھے انہیں ناکامی کا سامنا ہوا ہے۔
پہلگام واقعے کو جواز بناکر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا منصوبہ بنایا تاہم یہ منصوبہ پہلے ہی دن سے ناکامی کا شکار ہوئی کیونکہ عالمی سطح پر پہلگام واقعے کی مذمت تو ہوئی مگر پاکستان کے خلاف بھارتی جارحانہ موقف کو سفارتی، سیاسی پذیرائی نہ مل سکی۔
باوجود اسکے بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اور پاکستان پر میزائل اور ڈرونز حملوں کا سلسلہ شروع کردیا ۔
اس سارے دورانیے میں پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور عالمی سطح پر دوست ممالک کی کوششوں اور مداخلت پر سفارتی کوششوں کو بھی اہمیت دی تاہم بھارتی جارحیت کا بالآخر دندان شکن جواب دیا گیا جسکی وجہ سے بھارت کے ہوش اڑ گئے ۔جہاں بھارت کو سبق ملا وہیں عالمی قوتوں کو بھی احساس ہونے لگا کہ جس تنازعے کو وہ ہلکے میں لے رہے تھے وہ بھیانک بن سکتا ہے۔
عالمی معتبر ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت نے امریکی صدر سے مداخلت کی درخواست کی جسکے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے راہنماوں کیساتھ بات چیت کرکے جنگ کو رکوا دیا۔ یہ جنگ امریکی مداخلت سے ایک ایسے وقت میں روک دی گئی جب بھارت کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑ رہی تھی اور شنید تھا کہ مزید تباہی ہو جاتی۔
چند دنوں کے اس تنازعے نے جہاں پاکستان کے عسکری قوت کو دنیا پر واضح کردیا وہیں پر ایک مرتبہ پھر "مسئلہ کشمیر” عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرگیا ہے ، عالمی راہنما اسے "جنوبی ایشیا” کے لئے سنگین خطرہ قرار دینے لگے ہیں۔
بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے کردار ادا کرینگے، یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی اور کشمیری عوام کی طویل جدوجہد کو تسلیم کرنے کی مصداق ہے۔
بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کےقدام کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عالمی قوتوں بالخصوص امریکہ نے کشمیر کے مسئلے کوا یک مرتبہ پھر اہمیت دی ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں بھارتی آئین کی شق 370 میں ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے بھارتی ریاست کا حصہ بنایا تھا جس پر پاکستانی حکومت نے احتجاج تو کیا، آدھا گھنٹہ خاموش کھڑے رہنے کی مشق کی گئی مگر موثر سفارت کاری نہ ہونے کی وجہ سے بھارت عارضی طور پر اپنے منصوبےمیں کامیاب ہوا تھا مگر اب ایک بار پھر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جبکہ دوسری طرف جموں و کشمیر میں عوام نے اگست 2019 سے احتجاج کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا ہوا ہے۔