جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کا اجلاس، بھارتی جارحیت کے خلاف فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، قرارداد

اپر چترال(چ،پ)جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے جنرل کونسل کا ایک اہم اجلاس مدرسہ انوار مدینہ بونی میں ضلعی امیر مولانا محمد یوسف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جمعیت کے اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس میں جماعتی امور زیر بحث رہے اور اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی ۔
جمعیت علمائے اسلام اپر چترال کے ترجمان امیر الدین کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں منظور قرارداد کے ذریعے جمعیت علمائے اسلام نے بھارتی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ، قرارد اد میں کہا گیا ہے کہ بیرونی جارحیت کے خلاف افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں ، جماعت کا ہر رکن شوق شہادت اور شوق جہاد سے سرشار ہے، کفار کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے افواج پاکستان کے اشارے کے منتظر ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام نے قرارداد کے ذریعے فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر قسم کے مالی و جانی تعاؤن کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اپر چترال علاقے میں مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور حالیہ فرقہ ورانہ واقعات میں اپر چترال انتظامیہ کے کردار پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے اور آئیندہ بھی اپر چترال انتظامیہ سے امید کرتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔
جمعیت علمائے اسلام اپر چترال چترال شندور روڈ، موڑکہو روڈ، بونی بوزند روڈ کی تعمیر میں سست روی پر عدم اطمینان اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اور ڈی سی صاحب سے اپیل کی ہے کہ تعمیراتی کام کے حوالے سے چترال کا موجودہ موسم انتہائی موافق ہے لہذا اس موسم سے فائدہ اٹھاکر کام کی رفتار کو تیز کیا جاۓ اور جلدازجلد کام کو پائیہ تکمیل تک پہنچا کر عوام کو اذیت سے بچایا جائے ۔