علامہ مرزا محمد غفران کی مشہور تصنیف تاریخ چترال فارسی؛معروف دانشور محمد عرفان عرفان نے اردو ترجمہ کردیا
شہزادہ تنویر الملک کی کوششوں اور دلچسپی سے اردو ترجمہ شدہ کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آگیا

چترال(چ،پ)چترال کے مشہور و معروف شخصیت علامہ مرزا محمد غفران کا 1919 میں تحریر کردہ ریاست چترال کی پہلی فارسی تاریخ بالآخر اردو میں ترجمہ ہو کر شائع ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق مہتر چترال ہزہائنس شجاع الملک کی ہدایت پر اسوقت ریاست چترال کے اہم اور سینئر عہدیدار ، نامور ادیب اور دانشور مرزا محمد غفران نے ریاست چترال کی تاریخ مرتب کرنے پر کام1917میں شروع کیا اور نہایت محنت سے دو سال کے اندر ایک جامع کتاب فارسی میں تیار کرکے مہتر چترال کو پیش کیا لیکن بعض نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس کتاب کو شائع نہیں کیا گیا ، یہ نسخہ دوسال تک مہتر چترال کے پاس پڑا رہا۔
1919 سے لیکر 1921 کے دوران میں مہتر چترال ہزہائنس شجاع الملک کے حکم پر مرزا محمد غفران کے فرزند غلام مصطفی نے اس کتاب کے کچھ حصوں میں ترمیم کرکے ضبط تحریر میں لایا اور اس کی چھپائی بمبئی سے کرائی گئی ،مگر جب کتاب چھپ کر چترال پہنچا تو مہتر چترال شجاع الملک نے کتاب کے تمام نسخے ضبط کرکے جلا دیئے اور یوں چترال میں تاریخ نویسی کو بھی بریک لگ گیا۔
اب مرزا غفران کے پوتے اور معروف دانشور محمد عرفان عرفان نے تاریخ چترال فارسی کا اردو میں ترجمہ کردیا، اس سلسلے میں شہزادہ تنویر الملک جو کہ خود بھی کئی کتابوں کے مصنف ہیں، انہوں نے اس کتاب کے ترتیب وتدوین ،کمپوزنگ سے لیکر چھپائی کے مراحل کو سر انجام دیا ،تاریخ چترال کا اردو ترجمہ شدہ کتاب اب شہزادہ تنویر الملک کی کوششوں سے چھپ کر مارکیٹ میں آ چکا ہے۔
مرزا محمد غفران کی طرف سے مرتب کردہ تصنیف کو چترال کے بارے میں سب سے مستند نسخہ تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کتاب میں پہلی مرتبہ چترال ریاست کے جغرافیہ، یہاں کے آب وہوا، جنگلات اور قدرتی وسائل، یہاں کے اقوام ، رسم و رواج اور ثقافت یعنی جملہ امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
