جانی خیل بنوں میں فتنہ الخوارج کا جھوٹا پراپیگنڈا بے نقاب

بنوں (ن، ڈ)خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کے علاقہ جانی خیل میں فتنہ الخوارج کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھل گیا، اپنی موجودگی کا پراپیگنڈہ کرنے کے لیے خوارج کے دہشت گرد چند منٹوں کے لیےاپنی بلوں سے نکل کر ویڈیو بناتے ہیں اور دم دبا کر واپس اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بنوں کے علاقے جانی خیل میں خوارج نے ایک اور جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے علاقے میں اپنی موجودگی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ ایسے ویڈیو بنانے کا مقصد عوام میں خوف وہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لیکر اپنے ساتھیوں کو تسلی دینا ہوتا ہے۔ تاہم، اگر اس ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے دعوے جھوٹے اور ان کی حرکات بزدلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ویڈیو میں ان کے خوف اور جلدی کا مظاہرہ واضح ہے۔
کیمرے کے سامنے آتے ہی ان کی گھبراہٹ اور جلدی میں وہاں سے نکلنے کی کوشش سے واضح ہے کہ یہ جھنمی کتے کس قدر بزدل ہیں۔
مقامی صحافیوں اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کا بھی ماننا ہے کہ دہشت گرد عناصر ویڈیو بنانے کی غرض سے صرف چند منٹوں کے لئے منظر عام پر آجاتے ہیں اور عجلت میں ویڈیو بنا کر فرار ہو جاتے ہیں۔
اگر ان کے پاس واقعی کسی علاقے پر کنٹرول ہوتا تو وہ اعتماد سے اپنی موجودگی کا مظاہرہ کرتے، لیکن ان کا جھوٹا پروپیگنڈہ صرف چند لمحوں کا ڈرامہ ہے، جس کے بعد وہ اپنے ٹھکانوں میں چھپ جاتے ہیں۔
یہ خوارج وہی عناصر ہیں جو خوف، فریب اور جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان کے یہ حربے نہ ماضی میں کامیاب ہوئے اور نہ آئندہ ہوں گے۔
یہ بات واضح ہے کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، ایمان اور اتحاد سے لڑی اور جیتی جا رہی ہے۔ خوارج کے یہ حربے ان کی ناکامی اور بے بسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان کی زمین جہنم کا دروازہ بن چکی ہے، اور وہ اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں۔
ریاستِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ خوارج کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ ان کے جھوٹے دعوے اور بزدلی انہیں بچا نہیں سکتے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔