پولو ایسوسی ایشن کا چترال میں جاری پولو ایونٹ سے لاتعلقی اور اسکے بائیکاٹ کا اعلان

اشتہارات

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال پولو ایسوسی ایشن نے ضلعی انتظامیہ اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چترال پولو گراونڈ میں شروع کردہ پولو ٹورنامنٹ سے لاتعلقی اور بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداروں شیر افگن الملک، شیخ فاروق اقبال، عدنان خان، تنزیل الرحمن ایڈوکیٹ،اویس ابراہیم، شیرندیم الملک اور چیف پولو کوچ آفتاب عالم نے کہا کہ پولوایسوسی ایشن اس علاقے میں پولو کے کھیل کا امین تنظیم ہے جوکہ اس علاقے کا ثقافتی اور تاریخ کی پہچان کا ذریعہ ہے اور اب تک پولو کا کوئی ایونٹ بھی اس تنظیم کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوا۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چترال بھر میں پولو کے کھلاڑیوں کی واحد نمائندہ تنظیم پولو ایسوسی ایشن کو اس ایونٹ کے انعقاد کے سلسلے میں بائی پاس کرنا اورگذشتہ سالوں سے ان کے چنددیرینہ مسائل کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود نظرانداز کرنا پولو ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری پولو ٹورنمنٹ کے بائیکاٹ کے فیصلے کی فوری اور بنیادی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس ٹورنامنٹ میں سویلین کھلاڑیوں کا مکمل طور پر باہر رکھنا اور صرف فورسز کی پانچ ٹیموں کی شرکت ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے مہینے میں سردی کی شدت کی وجہ سے گھوڑوں کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ ہے ، آج کل ایک گھوڑا 15سے 25 لاکھ روپے میں ملتا ہے، جس کا خمیازہ شندور فیسٹول میں چترال کے ٹیموں کواٹھانا پڑھے گا۔انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے ایسوسی ایشن کی طرف سے بعض مسائل کی طرف نشاندہی کرنے اور یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی جس سے پولو کے کھلاڑیوں اور اس تاریخی وثقافتی کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہاہے۔ انہوں نے ان مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ چترال کی تاریخی پولو گراونڈ کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونا اور کھلاڑیوں کے لئے سہولیات کافقدان سرفہرست مسائل ہیں کیونکہ اس پولو گراونڈ کی نگہداشت کے لئے کوئی فل ٹائم ملازم نہ ہونے اور اس کو باقاعدگی سے پانی دینے کے لئے پانی کی سپلائی کا کوئی نظام نہ ہونے سے پولوگراونڈ ایک ویرانے کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کئی صدی پہلے قائم اس تاریخی پولو گراونڈ کی شکست و ریخت کو چترال کے پولو پلئیرز برداشت نہیں کرسکتے اور جب تک ان مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، وہ جشن شندور سمیت تمام پولو ٹورنامنٹوں کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔