دفاعی، سیاحتی اور تجارتی اہمیت کے حامل تاریخی بروغل روڈ کی تعمیر کے لئے فنڈ جاری کئے جائیں/اہلیان علاقہ کا مطالبہ

علاقے کے عوام اکیسویں صدی میں بھی پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں

اشتہارات

چترال (محکم الدین ) بروغل کے عمائدین نے قدیم سلک روٹ ( بروغل روڈ ) کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بروغل کے لوگ پتھر کے زمانےکی زندگی گزار رہے ہیں اور250 کلو میٹر کا فاصلہ ایک ہفتے میں طے کرنے پر مجبور ہیں ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بروغل کے عمائدین چئیرمین وی سی بروغل عمر رفیع ، سید مختار علی شاہ ایڈوکیٹ ، رحمت نواز ، اکرم علی شاہ ، غلام نبی ، اسماعیل ، تاج علی بیگ ، عبدالصبور ، محمد عمر ، میر عزیز ، عزیز بیگ ،عیسی خان ،عالم بیگ ، شیر زمین وغیرہ نے کہاکہ بروغل جھیلو ں ، گلیشئر ،قدرتی نظاروں اور معدنیات سےمالا مال ہے اور قدیم زمانے سے تجارتی گزرگاہ ہے اور اس روٹ پر گھوڑوں اور خچروں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی تھی ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ حکومتی عدم توجہ کی بنا پر نہ صرف وہ تجارت ختم ہوئی بلکہ مقامی لوگوں کی آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بروغل کے لوگ انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بروغل کے لوگ اب بروغل روڈ کی تعمیر کیلئے میدان میں آچکے ہیں اور بروغل روڈ تحریک اس روڈ کی تعمیر تک جاری رہے گا ۔انہوں نے صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ روڈ کی تعمیر کیلئے فنڈ فراہم کرکے بروغل کےلوگوں کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات دلائی جائے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔عمر رفیع نے بروغل میں گرین گودام کی بلڈنگ کی تعمیر ادھوری چھوڑنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مذکورہ گرین گودام کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اسے مکمل نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کی بنا پر علاقے کے لوگوں کو خوراک کے مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے علاقے میں ڈسپنسری اسٹاف نہ ہونے سے صحت کے مسائل اور سکولوں میں اساتذہ نہ ہونے پر تعلیم کےحصول میں طلبہ کے مشکلات کا ذکر کیا۔