چترال میں کاروبار کے بہت زیادہ مواقع ہیں، بہت جلد یہ علاقہ کاروباری مرکز بنے گا/عبدالکریم تورڈھیر

اشتہارات

چترال (بشیرحسین آزاد) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و فنی تعلیم عبدالکریم خان تورڈھیر نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں دوستی رکھنی چاہیے جس کے اندر قدرتی طور پر پاکستان کا زمینی اور آبی راستہ بھی اس ملک سے گزرکرجاتی ہیں اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی زمینی رابطہ اسی ملک سے ہوکر ہی ممکن ہے اوریہ وقت ہے کہ ہم اپنی پڑوسی ملک کے ساتھ تجارت کے مواقع کو پوری طرح فروغ دے کر فوائد سمیٹ لیں۔ ہفتہ کے روز چترال کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ تجارتی نمائش "چترال ایکسپو” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبے میں پی ٹی آئی حکومت نےاپنی پارٹی کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ یہاں ترقی وخوشحالی کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہم سے انتخابی نشان سے لے کر جھنڈا اور قیادت تک سے محروم کردیا گیا ہے اوراس سب کے باوجود صوبے کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے مختلف اور مشکل اقدام اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے لئے صوبے میں ہر علاقے کی مقامی وسائل سے استفادہ کرنے کی پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انوسٹرز کو اس صوبے میں لائے جارہے ہیں تاکہ یہاں معاشی سرگرمیوں سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں بھی انہی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دوسرے چینلز کے ذریعے ذیادہ سے ذیادہ انوسٹمنٹ لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور بہت جلد ہی باہر سے سرمایہ کار جوق درجوق چترال کا رخ کریں گے جس سے یہاں سے پسماندگی اور غربت کا خاتمہ ہوگا اور یہی بانی پی ٹی آئی کا وژن ہے۔ عبدالکریم خان تورڈھیر نےکہا کہ ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمیں یہیں پاکستان ہی میں جینا اورمرنا ہے اور ملک چھوڑ کر باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور اسی وجہ سے ایسے قابل عمل اور پائیدار معاشی پالیسی بنارہے ہیں جس سے عوام کو ذیادہ سے ذیادہ فوائد حاصل ہوسکیں اور حال ہی میں وزیراعلیٰ نے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے متعدد اسکیموں کااعلان کیا ہے جن میں آسان قرضوں کے ذریعے کاروبار کو فروغ دیا جاسکے گا۔ معاون خصوصی نے کہاکہ چترال کی زرعی زمین کم ہونے کے باوجود نہایت زرخیز اور اعلیٰ خصوصیات کا حامل ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہمیں متعلقہ اداروں سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے چترال کے عوام پر زور دیا کہ وہ میڈیاکے ذریعے اس تالے کو توڑ دے جوکہ چترال میں معدنی وسائل کے بارے میں ان کے دلوں میں مچل رہے ہیں لیکن خوف اور ڈر کے مارے لب پر نہیں لا سکتے۔ معاون خصوصی نے اپنی تقریر کے شروع میں ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر کی ہال میں موجودگی کے بارے میں پوچھنے پر نفی میں جواب ملنے پر ڈی سی چترال کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہارکیا اور کہاکہ معیشت کے لئے اس اہم ترین نوعیت کی پروگرام سے غیر حاضر رہنے والے افسران یہاں رہنے کے قابل ہرگزنہیں ہیں۔ انہوں نے چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایکسپو منعقد کرنے پر ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان،خیبر پختونخوابورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سمیت چترال چیمبر آف کامرس کی کوششوں کو سراہا۔ اس سے قبل ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ڈائرکٹر جنرل محمد نصیر نے کہاکہ ان کے ادارے نے بین الاقوامی اور ملکی سطح سے علاقائی سطح پر بھی تجارت کی فروغ کے لئے ٹریڈ ایکسپو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے چترال کو چن لیا گیا جہاں تجارت کو ترقی دینے کے لئے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ایونٹ کے نتیجے میں چترال کی مصنوعات کو ملکی اور بین الاقوامی لیول پر تعارف کے ساتھ نیٹ ورکنگ اور تربیت کی سہولیات بھی حاصل ہوں گے۔ اس موقع پر چترال چیمبر آف کامرس کے نائب صدر لیاقت علی نے چترال میں تجارت کے فروغ کی راہ میں درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ ٹی ڈی اے پی خیبر پختونخوا کے ڈائرکٹر نعمان بشیر نے چترال ایکسپو کے کامیاب انعقاد میں مختلف اداروں کا شکریہ ادا کیا۔
چترال ایکسپو میں 90سے ذیادہ اسٹالز سرکاری،غیر سرکاری اور انفرادی طور پر لگائے گئے ہیں جن میں مختلف النوع اشیاء نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں جن میں مقامی خوراک سے لے کر پوشاک، سجاوٹ، ثقافت اور کالاش تہذیب کی اشیاء شامل تھے جن میں وزٹ کرنے والوں نے نہایت دلچسپی کااظہارکیا۔