حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے یارخون ویلی پسماندگی اور غربت کا شکار ہے، عمائدین علاقہ

علاقے میں سیاحت، معدنیات اور زراعت کے شعبے میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں

اشتہارات

چترال(چ،پ)اپر چترال کے مستوج ٹاؤن سے بروغل تک معیاری سڑک کی تعمیر کے لئے شروع کردہ تحریک مستوج بروغل روڈ کے زیر اہتمام نشست "مشقولگی”میں اظہار خیال کرتے ہوئے تحریک کے صدر سید مختارعلی شاہ ایڈوکیٹ اور دوسرے رہنماؤں لیاقت علی، صاحب عرفان، اختراکبر شاد اور حاجی کمال نے سڑک کی کمی کو مستوج سے لے کر بروغل تک اس علاقے کی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیا اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیاکہ اس پر ہنگامی بنیادوں پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کرآج تک اس علاقے کے عوام نے ترقی نہیں دیکھی اور اب بھی پسماندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کا بنیادی وجہ معیاری اور سال بارہ مہینے کھلا رہنے کے قابل سڑک کا نہ ہونا ہے اور سڑک کی عدم موجودگی ترقی کے تمام سیکٹرز کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اور یہاں سیاحت، زراعت اور مائننگ کے زبردست مواقع دستیاب ہیں جن سے استفادہ کرکے نہ صرف اس علاقے کو بلکہ پورے چترال کو ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ لیاقت علی نے مائننگ اور دیہی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بروغل پاس سے لے کر مستوج تک یہ علاقہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور زمانہ قدیم میں سنٹرل ایشیاء سے سفر حج کے قافلے بھی یہیں سے گزرتے تھے اور یہی تجارتی راستہ بھی تھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ علاقہ دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات سے ڈھکا ہوا ہے لیکن ٹرانسپورٹیشن کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہے اور ہم خزانے کا مالک ہونے کے باوجود غریب چلے آرہے ہیں۔
ٹورزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے معروف شخصیت صاحب عرفان نے کہاکہ اس سیاحت کے اعتبار سے یہ ایک پرکشش علاقہ ہے ، سڑکوں کی حالت بہتر بنانے سیاحت کو ترقی دی جا سکتی ہے جس سے علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر مشہور ومعروف دو ٹریکنگ روٹس یارخون ویلی میں موجود ہیں اور یہ علاقہ سیاحوں کے لئے جنت ہے مگر اس جنت تک رسائی کے لئے سڑک ندارد۔
زراعت کے شعبے کے ماہر اختر اکبر شاد نے کہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ زرعی لحاظ سے کئی خصوصیات کا حامل ہے اور خصوصاً سیب اس علاقے کی پہچان ہیں اور اب چیر ی کے باغات بھی لگائے جارہے ہیں جبکہ بروغل اور اپر یارخون میں لوگ کاشت کاری نہیں کرتے بلکہ علاقے کی موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یاک پال کر نقد رقم حاصل کرتے ہیں لیکن سڑک کا مسئلہ درپیش ہونے سے جہاں پھل کی مارکیٹنگ مشکل ہے وہاں فروخت کے لئے جانوروں کو بھی مارکیٹ تک نہیں پہنچاسکتے اور باہر سے آئے ہوئے تاجر من مانے نرخوں پر پھل اور جانور ان سے لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خراب سڑکوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کا کرایہ بھی ذیادہ آتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے کسان اور مویشی پال حضرات بیچ، کیمیائی کھاد، زرعی ادویات بھی خریدنے کی استطاعت بھی گرجاتی ہے۔
سڑک کے نہ ہونے پر صحت کے شعبے کی زبون حالی پر حاجی کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈلیوری کیس میں ہسپتال منتل کئے جانے کے دوران ہر سال درجنوں خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جبکہ یہی حال اپنڈکس کے مریضوں کا ہے جس کے پھٹ جانے سے راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ان سڑکوں پر مریضوں کو ہسپتال لانے پر ان کی بیماری یا زخم کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
ا نہوں نے کہاکہ اسی خراب سڑک کی وجہ سے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی ان علاقوں میں آنے سے کتراتے ہیں اور نتیجتاً ان علاقوں میں ڈاکٹروں کی سو نہیں تو نوے فیصد اسامیاں خالی ررہتی ہیں۔
اس موقع پر اس بات بھی زور دیا گیاکہ مستوج پل سے لے کر یارخون تک مین روڈ کا متبادل سڑک کا انتظام بھی کیا جائے تاکہ کسی بھی قدرتی آفات کی صورت میں اسے ہنگامی طورپر استعمال کیا جاسکے۔ فورم میں شریک حضرات نے زور دے کرکہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ کنگ میکر ہے جہاں لوگ آپس میں اتحادواتفاق کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایک ہی امیدوار کو جتوانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اس دفعہ ایم این اے عبداللطیف اور ایم پی اے ثریا بی بی کو بھاری اکثریت سے اس علاقے میں ووٹ دے کر ان سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ دونوں مل کر اس علاقے میں سڑک کو اولین فوقیت دے دیں۔

#Chitralpost