ٹی ایم اے سینٹری اسٹاف کو تنخواہیں ادا نہ کرنا افسوسناک ہے،احتجاجی تحریک شروع کریں گے/سی ڈی ایم

اشتہارات


چترال (بشیرحسین آزاد) چترال میں سڑکوں اور دوسرے شعبوں میں ترقی کے لئے جدوجہدکرنے والی سول سوسائٹی تنظیم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) نے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن چترال کی صفائی کے عملے کی گزشتہ دو ہفتوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال سے صوبائی حکومت کی لاتعلقی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء اور تجار برادری سمیت پوری سول سوسائٹی ان کے پشت پر کھڑی ہے اور مزید تاخیر پر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی ایم کے چیئرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے تنظیم کے دیگر رہنماؤں لیاقت علی خان، شاہ کریز خان، عنایت اللہ اسیر، سید مختار علی شاہ ایڈوکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ساجد اللہ ایڈوکیٹ، صدر تجار یونین بشیر احمد خان اور صدر لیبر یونین زاربہادر خان کی معیت میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، وزیر بلدیات اور سیکرٹری بلدیات سے پرزور مطالبہ کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے سنیٹری اسٹاف کو ان کی تنخواہیں فی الفور ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ رمضان المبارک میں ان کو بھوک اور فاقوں سے بچایا جاسکے اور وہ عید کی خوشیوں میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بلدیہ کے صفائی ملازمین کسی سے بھیک نہیں بلکہ اپنی روزمرہ کام کرنے کی اجرت مانگ رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے ان کے احتجاج کو نظر انداز کرنا ناقابل فہم بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ صفائی اسٹاف کی ہڑتال کی وجہ سے چترال شہر میں غلاظت اور گندگی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اور کسی بھی وقت بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ سرپرمنڈلا رہا ہے۔ اس موقع پر لیبر یونین کے صدر نے منگل کے دن سے پانی کی سپلائی لائن پر ڈیوٹی بھی بندکرنے کا اعلان کیا۔ صدر بار ایسوسی ایشن نے وکلاء برادری کی طرف سے ہڑتالیوں کی مکمل قانونی سپورٹ کرنے اور صدر تجاریونین نے ان کے حق میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صدرسی ڈی ایم نے چترال شندور کی توسیع ومرمت کے کام کی مبینہ بندش پر بھی تشویش کا اظہارکیا اور مستوج ٹاؤن میں واقع دریائے یارخون پر پل کی ضروری مرمت کا کام دریا میں پانی کی سطح بڑھنے سے پہلے شروع کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سال موسم گرما میں پل دریا برد ہونے کا سوفیصد خطرات موجود ہیں اور ایسی صورت میں جشن شندور بھی منعقد نہ ہوسکے گا۔