خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے آخری دنوں بھرتی کئے گئے افراد کو فارغ کیا جائے/جاوید اختر

اشتہارات

چترال (چ،پ)پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی کونسل کے رکن جاوید اختر نے نگران صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کے آخری دنوں میں مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بھرتی کئے گئے افراد کو فارغ کیا جائے اور اس عمل کی شفاف انکوائر ی کیا جائے۔ ایک اخباری بیان میں جاوید اختر نے کہا کہ انصاف کے دعویداروں نے بھرتی کے اس عمل کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر اپنے منظور نظر افراد کو من پسند آسامیوں پر تعینات کیا ہے جو کہ انصاف کے نام پر بد نما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی بیوروکریسی نے حکمران جماعت کا ساتھ دیکر حقداروں کا حق مارتے ہوئے من پسند افراد کی تعیناتی کے لئے راہ ہموار کی اور بدعنوانی کا اتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنددنوں میں سینکڑوں ملازمین کی بھرتی کا عمل بدعنوانی اور منظور نظر افراد کو نوازنے کی طرف واضح اشارہ دیتی ہے جوکہ سابقہ حکومت کے دور میں ہوئی ہے، اس عمل سے جہاں حقداروں کا حق مارا گیا وہیں سیاسی مفاد کے حصول کیلئے کوششیں کی گئی ہیں جوکہ غیر قانونی ہے۔ جاوید اختر نے کہا کہ عمران خان نے جب فوری اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات کی تو خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت کے کلیدی ذمہ داروں کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے عمران خان سے چند دنوں کی مہلت لی، اس مہلت کا مقصد خزانے کو صاف کرنا اور منظور نظر افراد کو من پسند آسامیوں پر تعینات کرنا تھا جس میں سابقہ صوبائی حکومت کامیاب ہوگئی۔ انہوں نے صوبائی گورنر غلام علی، نگران وزیر اعلیٰ اعظم سمیت الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح تحریک انصاف کے من پسند بیوروکریٹس کو تبدیل کیا گیا ہے اسی طرح سابقہ حکومت کے آخری ایام میں سینکڑوں کی تعداد میں بھرتی کئے گئے افراد کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے اور اس سارے عمل کی انکوائری کرکے ملوث افراد کو سزا دیجائے، اس عمل میں بدعنوانی کو واضح کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ چند دنوں میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو بھرتی کیا گیا۔