پیر. اکتوبر 3rd, 2022


چترال(نامہ نگار)چترال کے معروف مذہبی و سماجی شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے مختلف ملازمتوں کے سلسلے میں ایٹا اور دیگر ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے ٹیسٹ چترال ہی میں کرانے کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قاری جمال عبدالناصر نے چترال سے تعلق رکھنے والے نامور قانون دان شیر حیدر خان ایڈوکیٹ کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کیا ہے جس میں ایٹا ٹیسٹ اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے ملازمتوں کے ٹیسٹ چترال میں کرانے کی استدعا کی گئی۔ اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ ایک چترالی باشندے اور ایک محب وطن پاکستانی شہری کی حیثیت سے میں فرزند چترال ایڈوکیٹ شیر حیدر خان کی وساطت سے پشاور کے معزز ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائرکیا ہے جس میں عدالت عالیہ سے استدعاء کیہے کہ چترال ایک دور افتادہ اور دو اضلاع پر مشتمل علاقہ ہے، یہ علاقہ پہلے ہی مختلف قسم کے سفری مشکلات سے دوچار ہے، چترال کے آبادی دور دراز اور دشوار گزار وادیوں میں پھیلی ہوئی ہے،ایٹا اور دیگر پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسیاں یعنی این ٹی ایس وغیرہ ضلعی کیڈر کے مختلف آسامیوں کے لئے تحریری ٹیسٹ کے لئے سینکڑوں امیدواروں کو چترال سے باہر مختلف اضلاع میں بلاتے ہیں، ان ٹیسٹ کے حوالے سے آخری ایام میں مطلع کیا جاتا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں غریب امیدواروں جن میں خواتین بھی شامل ہیں چکدرہ یا کسی اور مقام میں ٹیسٹ کے لئے بلایا جاتا ہے جس سے چترال سے تعلق رکھنے والے غریب امیدواروں کو بھاری اخراجات اٹھانے کے ساتھ طویل سفر اور ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل اہالیان چترال کے لئے ناقابل برداشت ہے کیونکہ ہزاروں کے حساب میں اُمیدواروں کوغیر ضروری سفر سے اجتماعی طور پر کروڑوں کا نقصان سے دوچار ہونا پڑتا تھا اور خواتین جس اذیت ناک صورتحال اور کوفت سے دوچار ہوتے اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ان حقائق کی روشنی میں میں عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چند مہینے پہلے چترال کے نوجوانوں اور اپنی بیٹیوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں ان شاء اللہ اس مسلے کو ہائیکورٹ لے جاکر انصاف کی درخواست کرونگا۔انہوں نے کہا کہ اس کا رخیر کے سلسلے میں ایڈوکیٹ شیر حیدر صاحب نے اپنی قوم کے لئے مجھ سے بھی بڑھ کر دلچسپی لی جس پر ہم انکے لئے بھرپور دعاگو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ایجنسیاں مختلف آسامیوں کے لئے ٹیسٹ کے انعقاد کے نام پر فیسوں کی مد میں امیدواروں سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں مگر اس کے باوجود آبائی ضلع میں ٹیسٹ منعقد کرانے کے بجائے سینکڑوں امیدواروں کو مزیداذیت کا شکار بناتے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اور امیدواروں کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔