پیر. اکتوبر 3rd, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد) ویلج کونسل موری کے چیئرمین نبی خان نے کوہ علاقے کے عمائدین شریف حسین، مولانا اخونزادہ رحمت اللہ، غفار لال، مولانا حفیظ الرحمن، رحمن شاہنوی اور دوسروں کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چترال شہر کے چیو پل سے لے کر شندور تک روڈ کی توسیع کی کوالٹی پر عدم اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے وزیرا عظم پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ روڈ کی ناقص ترین معیار اور ٹھیکہ دار کے ساتھ سازباز کے مرتکب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کی جائے اور دفاعی، سیاحتی اور مقامی اہمیت کی اس سڑک کو معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ این ایچ اے کے افسران اور پراجیکٹ کے کنسلٹنٹ سب مل کر ٹھیکہ دار کے سہولت کا ر کا کردار ادا کررہے ہیں اورمعیار پر سوفیصد سمجھوتہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقص ترین کام ہورہا ہے جو کہ مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے کہاکہ بریسٹ وال اور ریٹننگ وال کی تعمیر میں سیمنٹ کا استعمال نہیں ہوا ہے اور گزشتہ دنوں کی بارش کے نتیجے میں تو یہ دیواریں زمین بوس ہوکر کام کی معیار کا پردہ سب کے سامنے چاک کردیا مگر این ایچ اے حکام کو کوئی شرم نہیں آئی اور نہ ہی معیار کی رکھوالی کرنے والی کنسلٹنٹ نیسپاک والے شرمندہ ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ عارف اللہ نامی نیسپاک کا ریذیڈنٹ انجینئر نے تو ٹھیکہ دار سے کوالٹی کا کام لینے پر عزیز احمد نامی ایک سب انجینئر کو نوکری سے ہی بیک جنبش قلم برخاست کردیا۔ کوہ علاقے کے عمائدین نے ا س بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیاکہ سڑک کی توسیع کرتے وقت سائٹ انجینئروں نے گولین گول ویلی سے چترال ٹاؤن کو لائی جانے والی ایک فٹ قطر کے پائپ لائن کو بھی خاطر میں نہیں لایا اور نہ ہی ڈی ایس ایل کے لائن کے لئے کوئی منصوبہ بندی کی جس کی وجہ سے پانی یا ڈی ایس ایل کے لائن میں خرابی آنے پر سڑک کو دوبارہ اکھاڑنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر اس کرپشن کے خلاف کاروائی نہ ہوئی تو وہ راست اقدام پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کرپشن اور ناقص کام کو ڈی سی لویر چترال کے نوٹس میں بھی لے آیا تھا لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔