پیر. اگست 8th, 2022


چترال(چ،پ)معروف مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیت اور جمعیت علماء اسلام ضلع چترال لوئر کے سنیئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر نے کہا ہے کہ جوٹی لشٹ میں قائم چترال کے بڑے گرڈ اسٹیشن کو دریائے چترال کے بہاؤ اور طغیانی سے خطرہ ہے اور اسے بچانے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ گذشتہ ر وز جوٹی لشٹ کے مقام پر گرد اسٹیشن کا دورہ کرنے کے بعد اپنے اخباری بیان میں قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ دریا میں طغیانی اور رخ بدلنے کی صورت میں گرڈ اسٹیشن دریا برد ہو جائے گا جس سے نہ صرف کروڑوں روپے کے قومی املاک تباہ ہو جائینگے بلکہ ایسی صورتحال میں چترال میں غیر معینہ مدت کے لئے بجلی معطل ہو جائے گی اور چترال اندھیرے میں ڈوبنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادارے ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کی طرف توجہ نہیں دیتے، قبل از وقت احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے اور جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو اس کے لئے ہاتھ پاؤں مارے جاتے ہیں مگر پھر ایسی کوششیں بے سود ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ریشن جیسے خوبصورت سرزمین کی تباہی کی مثال موجود ہے جو کہ متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ جوٹی لشٹ میں قائم گرڈ اسٹیشن کثیر قومی سرمائے سے قائم ہوا ہے اور چترال بھر کو بجلی کی سپلائی کا نظام اس کیساتھ منسلک ہے، یہاں پر کروڑوں روپے کے مشینری اور آلات نصب ہیں جو کہ اس وقت خطرے کی زد میں ہیں، انہیں بچانے کے لئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ خدا نخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس صورت میں نہ صرف کروڑوں روپے کے قومی املاک تباہ ہو جائینگے بلکہ چترال کے عوام کو بجلی کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام کے دورے کے موقع پر انہیں اس چیز کا نوٹس لینا چاہیئے تھا۔ انہوں نے واپڈا، پیسکو اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس جانب توجہ دیجائے اور گرڈ اسٹیشن کو بچانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔