پیر. اگست 8th, 2022

چترال(چ،پ/س،م،ڈیسک) کسی فورس کے اہلکار اس فورس کا اثاثہ ہوتے ہیں، فورس اور اس کے کمانڈر اپنے اہلکاروں کے سرپرست ہوتے ہیں اور اللہ کی ذات کے بعد اگر کسی سے آس اور امید رکھتے ہیں تو یہ انکا فورس اور انکے اعلیٰ حکام ہوتے ہیں تبھی تو فورس کے افسر اور جوان ہر خطرے میں بلا خوف کود پڑتے ہیں کہ اگر انہیں کچھ ہو بھی جائے تو انکے خاندان، بال بچوں کا خیال رکھنے اور انکی کفالت کرنے کیلئے انکا ادارہ موجود ہے، ایک سسٹم کا م کر رہا ہے تاہم سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق  شومئی قسمت کے 9مہینے قبل مستوج میں دوران ڈیوٹی شہید ہونے والے پولیس فور س کے اہلکار مبارک حسین کو اسکے ادارے اور اعلیٰ افسران نے بھلا دیا اور اسکی بوڑھی ماں پچھلے 9مہینے سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے اور یہ معاملہ اب سوشل میڈیا میں آچکا ہے۔اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی کہ ایک شہید کی ماں اپنے حق کے حصول کیلئے پولیس فورس اور ڈی پی او اپر چترال سے نا امید ہوچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپر چترال پولیس کا اہلکار مبارک حسین گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں مستوج خاص میں دوران ڈیوٹی ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر شہید ہوگیا تھا، شہید پولیس اہلکارقانون شکنی کے مرتب تیز رفتار گاڑی کا پیچھا کرکے اسے روکنے کی کوشش کے دوران گاڑی کی ٹکر سے موقع پر شہید ہوگئے، اس واقعے کا ملزم ابھی جیل میں مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ شہید مبارک حسین اپنے خاندان کا کفیل تھا، ایک بوڑھی ماں کا سہارا تھا۔ پولیس فورس نے شہید کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک تو کردیا مگر اسکے بعد شہید کو بھلا دیا تبھی تو شہید پولیس اہلکار کی بوڑھی ماں پولیس افسران کے دروازوں پر دستک دیتے دیتے تھک ہار کر اب اپنا دکھڑا لے کر چترا ل کے معروف سماجی شخصیت شہزادہ سراج الملک کے پاس پہنچ چکی ہے۔ شہزادہ سراج الملک نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے اس افسوسناک واقعے کو ہائی لائٹ کیا ہے کہ کس طرح ایک شہید کی بے چاری بوڑھی ماں کو پولیس کی طرف سے نظر انداز کیا گیا اور ابھی تک شہید اہلکار کے مالی معاملات کلیئر نہیں کئے گئے ہیں۔اس معاملے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر چترال کی سنگین لاپرواہی آشکارا ہے۔ ابھی حال ہی میں عید کے موقع پر پولیس افسران فورس کے شہداء کے گھروں میں جا کرمٹھائیاں بانٹتے دکھائی دئیے، مبارک دے رہے تھے جوکہ اچھی بات ہے مگر کیا پولیس فورس اپنے شہداء کو اس طرح بھول جاتی ہے، کیا انکے وارثان کو در بدر ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔ یہ یقینا لمحہ فکریہ ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کی طرف سے پولیس شہداء کو کسی بھی صورت نہ بھولنے کے بیانات آتے ہیں مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔
اگلے مہینے پولیس فورس اپنا ”یوم شہداء“ منائے گی، بڑے بڑے بینرز لگائے جائیں گے، شہداء کی تصاویر چسپاں کئے جائیں گے مگر اس دن پولیس فورس اپنے شہید اہلکار ”مبارک حسین“ کے بھوڑی والدہ کو کیا جواب دے گی۔ شہزادہ سراج الملک نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈی آئی جی کے سامنے اس واقعے کو اٹھانے کا ذکر کیا ہے اور بین السطور میں اپر چترال کے ڈی پی او کی لاپرواہی اور غفلت کا بھی تذکرہ موجود ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کو اس امر کا نوٹس لینا چاہیے اور اس سلسلے میں غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کرنا چاہیے اور مزید کسی تاخیر کے شہید مبارک حسین کے واجبات انکی ماں کو ادا کئے جائیں۔