نشہ کے عادی طلباء کی نشاندہی کے لئے یونیورسٹی میں طبعی معائنے کا فیصلہ

اشتہارات


پشاور(م،ڈ)خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور کے تمام یونیورسٹیوں میں نشہ کے عادی طلباء و طالبات کی نشاندہی کرنے اور انکا علاج کرنے کے لئے یونیورسٹیوں میں طلبہ کے بلڈ ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تمام یونیورسٹیون سمیت کالجز کی انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کے خون ٹیسٹ کئے جائینگے جس کے بعد مثبت آنیوالوں کا علاج کرتے ہوئے انہیں نشے کی عادت سے چھٹکارا دلایا جائے گا۔ گزشتہ روز کمشنر ہاؤس پشاور میں وزیر اعلیٰ کے معاؤن خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، کمشنر پشاور ریاض خان محسود اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، اس موقع پر بتایا گیا کہ 24 مئی سے چروع کئے گئے نشے سے پاک پشاور مہم کے دوران ابتک 1188نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے جن میں 13خواتین بھی شامل ہیں، بلڈ اسکریننگ کے نتیجے میں 143افراد میں HIVایڈز اور دیگر امراض کی تصدیق کے بعد 139افراد کو علاج کی غرض سے اسلام آباد منتقل کرایا گیا ہے جبکہ 4مریض پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں، 1045 مریضوں کی بحالی پشاور کے مختلف بحالی مراکز میں کامیابی سے جاری ہے۔ معاؤن خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان نسل کو محفوظ بنانے کیلئے کام کیا جارہا ہے، اس مہم میں ہر مکتبہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کمشنر پشاور ریاض محسود نے میڈیا کو بتایا کہ ایک جانب منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے کام ہو رہا ہے تو اب دوسری جانب اس نشے کو شہریوں تک منتقل کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جائے گا۔