بدھ. ستمبر 28th, 2022


رپورٹ (سید نذیر حسین شاہ) خیبرپختونخوا کے اٹھارہ اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں درجنوں مرد امیدوارجوتحصیل کونسل کی چیئرمین شپ کے لئے انتخابات لڑرہے تھے، ان میں واحد خاتون امیدوار خدیجہ بی بی تھی۔خدیجہ بی بی کوعوامی نیشنل پارٹی نے تحصیل کونسل کی سربراہی کے لئے نامزدکیا۔وہ اے این پی کی صوبائی نائب صدربھی ہیں۔
اگرچہ وہ دروش تحصیل کونسل کی چیئرمین شپ کے انتخاب میں تقربیاچھ ہزارووٹ حاصل کرکے چوتھے نمبرپررہیں مگراس کے ساتھ مردانہ بالادستی کے معاشرے میں اتنی تعدادمیں ووٹ حاصل کرناخدیجہ بی بی کے لئے کامیابی کی سیڑھی پرپہلاقدم ہے یہ ان کے سیاسی قدکاٹھ کوبڑھانے کیلئے خوش آئندبھی ہے اور نوجوان خواتین کے لئے مثبت رجحان جو سیاسی میدان میں قدم جمانا چاہتی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں روایتی سماجی، اقتصادی، ثقافتی ڈھانچے مردانہ بالادستی کی شکار ہیں وہ اپنے اندر خواتین کو با اختیار بنانے کی جگہ نہیں رکھتے۔ اس صورتحال میں گزشتہ کچھ عرصے میں کچھ مثبت تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے جیسے نوجوان خواتین کی سیاسی افق پر نمودار ہونا ہے اور چترا ل میں خدیجہ بی بی کو مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔
سیاسی رہنما خدیجہ بی بی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے سیاست کے میدان میں پاکستان کی نصف آبادی کی شمولیت انتہائی ضروری ہے جو عورتوں کی قومی سطح پہ فیصلہ سازی میں کردار کو یقینی بنانے کے لئے لازمی ہے۔ عورتوں کی سیاست میں حصہ داری کے ساتھ معاشرے میں دیگر تبدیلیاں جڑی ہوئی ہیں۔ ”سیا سی جماعتوں کوصرف نعرے نہیں بلکہ عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ہر سطح پر عورتوں کی شمولیت کو بہتر کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے“۔
خدیجہ بی بی نے تقاضا کیا کہ صوبائی اسمبلی میں عورتوں کی مخصوص نشستوں کی تعداد برھائی جائے اور رہنما اصول یا پالیسی مرتب کی جائے جو پسماندہ علاقوں کی عورتوں کوآگے لانے کا باعث بنیں۔
بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اسی لاکھ ووٹرزکے لئے اٹھائیس ہزار سے زائد امیدواروں کے لئے چھ ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز کا بندوبست کیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ تھی کہ سابقہ فاٹا کی آبادی بلدیاتی انتخابات کے لئے سرگرم ہوئی اور عملی طور پر سیاسی عمل کا حصہ بنی۔
تحصیل دروش سے تعلق رکھنے والی حالیہ بلدیاتی انتخاب میں تحصیل کونسل کے لئے نامزداُمیدوار باہمت خاتون خدیجہ بی بی نے بتایاکہ چترال جیسے اضلاع میں خواتین کوسماجی،معاشی،گھریلو،ریاستی اورسیاسی عمل میں گوں ناگوں مسائل کاسامناہے۔ خواتین بحیثیت ووٹر،پارٹی ورکر،انتخابی عملہ اوربحیثیت پولنگ ایجنٹ کئی مشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے حصہ لے رہی ہیں،اسمبلیوں میں نمائندگی بہت کم ہے۔اس جدیددورمیں بھی پاکستان میں سواکروڑکے قریب خواتین کاووٹرلسٹ میں نام اورقومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ووٹ جیسے بنیادی حق سے بھی محروم ہیں۔ ووٹر لسٹوں میں رجسٹرڈ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں جو فرق ہے اسے ختم کیا جائے، خدیجہ بی بی نے کہا۔
”سیاست میں آنے والی خواتین کی کردار کشی کی جاتی ہے جو کہ ایک گھناونا عمل ہے اس وجہ سے ایک عورت جو اپنی ہمت پہ اس میدان میں آتی ہے وہ سہم اور ڈر جاتی ہے اور اپنے اگے بڑھائے قدم روک لیتی ہے،” خدیجہ بی بی نے گفتگو میں کہا۔اپنی آبادی کے لحاظ سے عورتوں کو صوبائی اور وفاقی سطح پر نمائندگی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے“،سیاسی رہنما نے کہا۔
خدیجہ بی بی نے بتایاکہ چترال کے اکثرعلاقوں میں الیکشن کی مہم کے دوران خواتین کویہاں کے فرسودہ رسم ورواج کی وجہ سے کئی پیچیدہ گیوں کاسامناکرناپڑتاہے۔ان علاقوں میں مردوں کے شانہ بشانہ گلی کوچوں میں ووٹ مانگتے وقت کئی مشکلات کاسامناہوتاہے جولوگوں کی منفی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں یہ خواتین کے لئے نہ صرف تکلیف کاباعث ہوتے ہیں بلکہ ان کے کام پربھی منفی اثرڈالتے ہیں۔ایسے اقدامات کوروکنے کے لئے سماجی رویوں میں تبدیلی لانابھی انتہائی اہم ہے۔جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ سیاسی میدان میں خواتین کی بھرپورنمائندگی کوتسلیم کرتے ہوئے ان کے لئے عملی اقدامات کریں۔
خدیجہ بی بی نے بتایاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بہت کم خواتین اپنی جماعت کے اندر انتخابی نشستوں پر براہ راست انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔میری پارٹی اس صوبے میں واحدجماعت ہیں کہ انہوں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں چترال سے تحصیل کونسل کی ٹکٹ پرالیکشن لڑنے کے لئے میرے نام ٹکٹ جاری کیا۔
خدیجہ بی بی کاکہناتھاکہ ان کے الیکشن لڑنے کامقصدچترال کی سیاسی شعوررکھنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرناتھا۔”میں ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔یہاں کے کچھ لوگ سیاست کواپنی جاگیرسمجھتے ہوئے دولت کے بل بوتے پر ووٹرزکوخریدنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہماری جیسی عورتوں کے لئے ناممکن ہے ہر لحاظ سے“۔
”میں اپنا انتخاب جیتی ہوں کیونکہ میں ذہن اور سوچ کی تبدیلی کے لئے لڑی ہوں۔ میرا الیکشن ان لوگوں نے لڑی ہے جو آٹے کی بوری کے لئے نہیں بلکہ پانی کی پائپ لائن کے لئے ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں۔“خدیجہ بی بی نے بتایا کہ شروع میں ان کو بیپناہ مشکلات کا سامنا رہا مگر اس سفر میں ان کی پارٹی، علاقے کے لوگ، صحافی، نوجوان عورتوں اور مردوں نے ان کی سپورٹ کی۔ جس کے لئے وہ ان سب کی مشکور ہیں۔
”چترال انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔ جہاں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ بچے اور بچیاں سکول پہنچنے کے لئے گھنٹوں چلتے ہیں۔ بچپن میں دو دو دن راستے میں خرچ ہو جاتے تھے۔ پہاڑی علاقہ ہے جہاں کسی مناسب صحت کی سہولت تک رسائی میں ہی زچہ بچہ وفات پا جاتے ہیں۔ انہی لوگوں کی زندگیاں بدلنے کے لئے میں کم عمری میں سیاست کے میدان میں اتری،“ خدیجہ بی بی نے بتایا۔
”چترال میں اپنے آپ کو سیاست کے میدان میں منوانا ہی اصل چیلنج تھا۔ جس کا میں نے بخوبی مقابلہ کیا۔“
چترا ل پریس کلب کے صدرسینئرصحافی ظہیرالدین نے اس حوالے سے گفتگومیں بتایاکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع لوئرچترال کی تحصیل دروش سے تحصیل چیئرمین شپ کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی نامزاد اُمیدوارخدیجہ بی بی قابل ذکرہے جوکہ چترال میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون اُمیدوارکی حیثیت سے تحصیل یاضلع لیول پر اس سیٹ کے لئے الیکشن لڑرہی تھی۔ خدیجہ بی بی نے اپنی جماعت کیووٹ بنک میں حیرت انگیزاضافہ کیایعنی پول شدہ ووٹوں کا 17فیصد تک لیگیئں جبکہ اس حلقے میں کامیاب امیدوار نے25فیصد ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے اگر شیشی کوہ اور دمیل ارندو میں زیادہ محنت کی ہوتی تو ان کی کامیابی کی راہ ہموار ہوسکتی تھی۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کرکے انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا اور سیاست میں قدم رکھنے والے دوسری بہنوں اور بیٹیوں کے لئے میدان ہموار کرلی جسے اس کنزرویٹو معاشرے میں بارش کاپہلا قطرہ کہا جاسکتا ہے۔
دروش کو تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہونیوالے انتخابات میں چیئرمین تحصیل لوکل گورنمنٹ کے لئے پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا جس میں پی پی پی میں نئی شمولیت اختیار کرنے والے شہزادہ خالد پرویز کو صرف 110ووٹوں سے پی ٹی آئی کے حاجی سلطان پر برتری حاصل ہوئی۔ تحصیل دروش کے حدود میں علاقہ کیسو اور اس سے نیچے یوسی ارندو تک تمام علاقے شامل ہیں جہاں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 63ہزار 864ہے جن میں سے 36ہزار389نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ فارم XXکے مطابق امیر نوراب خان (آزاد) نے 1053، خدیجہ بی بی (اے این پی) 5930، سلطان محمد (پی ٹی آئی) 8438، شہزادہ خالد پرویز (پی پی پی) 8548، شہزادہ شوکت الملک (مسلم لیگ۔ن اور جے یو آئی کا مشترکہ امیدوار) 1662، شیر محمد (جمعیت علماء اسلام کے ناراض گروپ اور جماعت اسلامی کا مشترکہ امیدوار) 7574اور عباد الرحمن (آزاد) نے 423ووٹ حاصل کی۔