جمعہ. مئی 20th, 2022

چترال (نامہ نگار) چترال کے عوامی حلقوں نے کنزیومر پروٹیکشن کونسل لویر چترال کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران چترال شہر میں گران فروشی اور ناجائز منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور مختلف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں سرکاری مقرر کردہ ریٹ سے دوگنے قیمت پر فروخت کئے جارہے ہیں جس سے مہنگائی وگرانی کے شکار عوام مزید پریشان ہوگئے ہیں۔متعدد صارفین نے مقامی میڈیاکو بتایاکہ رمضان المبارک سے چند دن پہلے 29مارچ کو ڈسٹرکٹ پرائس ریویو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں روزوں میں ذیادہ استعمال ہونے والی اشیاء پکوڑے کی قیمت فی کلوگرام 275روپے، سادہ سموسہ فی عدد 10روپے، قیمہ والا سموسہ 15روپے فی عدد، چھوٹا گوشت فی کلوگرام 950روپے، بڑا گوشت 470روپے فی کلوگرام اور چکن291روپے فی کلوگرام مقررکیا گیا تھا لیکن بازار میں پکوڑا 400روپے، سادہ سموسہ 20روپے، قیمہ والا سموسہ 30روپے، چھوٹا گوشت 1000سے 1100روپے، بڑا گوشت 600روپے تک فروخت ہوتا ہے جبکہ پولٹری فروش وزن کئے بغیر چکن فی دانہ کے حساب سے فروخت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی دکان یا قصاب خانے میں 29مارچ کا منظور کردہ نرخنامہ تک اویزان نہیں ہے لیکن چترال میں کنزیومر پروٹیکشن کونسل کا دفتر اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر موجود ہونے کے باوجود گران فروشی اور ناجائز منافع خوری کا سدباب کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سرکار نے تندوری روٹی کا وزن 160گرام اور قیمت 20روپے مقرر کی ہے لیکن کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور دیگر ذمہ دار اداروں کی طرف سے نگرانی نہ ہونے کے باعث بہت ہی کم وزن کے روٹی فروخت کررہے ہیں اور سبزی اور میوہ جات کی قیمت بھی چترال کے قریب ترین شہر تیمرگرہ (لویر دیر) سے مطابقت نہیں رکھتی اور عوام کو سبزی ومیوہ فروشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر کنزیومر پروٹیکشن کونسل چترال عرفان عزیز سے ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے پر بتایاکہ صارفین کی طرف سے شکایت آنے پر وہ کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں چار روز مسلسل بازار کی چیکنگ میں مصروف رہتے ہیں اور گران فروشوں کو موقع پر ہی جرمانہ کیا جاتا ہے۔