بدھ. اگست 17th, 2022

تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک چترال کی سیاست پر راج کرنے والے شہزادہ محی الدین انتقال کر گئے۔شہزادہ محی الدین وفاقی وزیر مملکت، نگرانی صوبائی وزیر، چار مرتبہ ممبر قومی اسمبلی، دو مرتبہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین اور ایک بار ضلع ناظم کی حیثیت سے چترال کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں شہزادہ محی الدین سنیئر اور تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے تھے۔ شہزادہ محی الدین کی سیاسی اور قومی خدمات کا ہی نتیجہ تھا کہ اس حلقے کے عوام نے 2013میں انکے جانشین شہزادہ افتخارالدین کو کامیاب کرکے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کرکے شہزادہ محی الدین کے خدمات کا صلہ دیا۔

چترال کا انتخابی حلقہ حساس نوعیت کا ہے،یہاں کے ووٹرز بھی حساس ہیں، 14500مربع کلومیٹرز پر پھیلا ہوا یہ حلقہ دورافتادہ اور دوردراز علاقوں پر مشتمل ہے، جہاں آبادیاں دور دراز اور دشوار گزار وادیوں میں پھیلے ہوئے ہوں،ایسے حلقے میں انتخابات میں کامیابی اور طویل عرصے تک عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا شہزادہ محی الدین کا غیر معمولی کارنامہ ہے۔

شہزادہ محی الدین شاہی خاندان کے چشم و چراغ تھے مگر وہ پوری زندگی عام لوگوں کیساتھ جڑے رہے، سخت محنت اور اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت اور مسائل حل کرنے کی وجہ سے اپنا مقام بنالیا۔ غیر معمولی صلاحیتیں،انتھک جدوجہداور خود کو خدمت کے لئے وقف کرنا انکی شخصیت کے نمایاں خصوصیات تھے۔ وہ سماجی محرکات اور نفسیات کو آسانی سے سمجھنے والے معاملہ فہم انسان تھے،لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے ماہر تھے اور بڑی آسانی سے اپنے سخت ترین مخالف کو اپنا دوست بنا لیتے۔ سیاسی میدان میں بد کلامی، زبان درازی، کسی کی دل آزاری اور عزت شکنی کرنے کے بالکل قائل نہیں تھے،دلائل اور حقائق کی بنیاد پرگفتگو کرنا انکا خاصہ تھا۔ انہوں نے چترال میں سماجی تفریق کی بنیاد پر سیاست سے خود کو دور رکھا کیونکہ انکا پختہ یقین تھا کہ سیاسی لیڈر کی عوامی خدمت اور انکا عوام کے ساتھ تعلق ہی آخر کار اسکی قیادت اور کامیابی کا پیمانہ ہوتا ہے اسلئے انکی تمام تر توجہ عوام کی خدمت اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز رہی۔

صاحب اقتدار اوربا اختیار شخصیت کے سامنے ببانگ دہل گفتگو کرنے کے حوالے سے شہزادہ محی الدین کی ایک پہچان تھی۔ کئی ایسے مواقع آئے جن میں شہزادہ صاحب نے اپنی صلاحیتوں اور انداز گفتگو سے سامعین کو حیران کردیا۔ 1986میں جشن شندور کے موقع پر صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے سامنے تقریر کرتے ہوئے انہوں نے چترال کے مسائل اور مشکلات کا کھل کر تذکرہ کیا، انہوں نے روایتی طور پر تحریر شدہ تقریر پڑھنے کے بجائے مدلل انداز میں گفتگوکی اور بتایا کہ حیران کن طور پر حکومت نے ابھی تک چترال کو نظرانداز رکھا ہوا ہے۔قصہ کچھ یوں ہوا کہ شندور میلے سے کچھ ماہ قبل جب دروش میں سویئر کے مقام پر روسی جہازوں کی بمبار ی ہوئی تو اس وقت صدر مملکت جنرل ضیا ء نے چترال کے دورے کے موقع پر چترال سکاؤٹس کی تعداد میں اضافے کاوعدہ کیا تھا اور 6مزید ونگ بننے تھے، اس حوالے سے ایک وفاقی سیکرٹری نے موقف اپنایا کہ اس تعداد میں نصف لوگ چترال سے جبکہ نصف دیگر علاقوں سے بھرتی کئے جائینگے،یہ بات شہزادہ صاحب کو ناگوار گزری اور انہوں نے اپنے دل کی بات مدلل انداز میں صدر پاکستان کے سامنے کی۔ اس بہادرانہ تقریر پر صدر مملکت بھی اپ سیٹ نظر آئے اور وہاں پر ظہرانے میں شرکت کئے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔ کافی تگ و دو کے بعد شہزادہ صاحب چترال ایئرپورٹ میں دوبارہ صدر مملکت سے ملے اور اس بابت گفتگو کرنے کے بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ چترال سکاؤٹس میں میں 6ہزار جوانوں کی بھرتی ہوئی جو کہ صرف چترال کے باشندے تھے، یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب چترال کی آبادی 32ہزار گھرانوں پر مشتمل تھی اور ان میں سے 6ہزار گھرانوں کو باعزت روزگا ر کے مواقع مل گئے۔ در حقیقت یہ شہزادہ محی الدین اور چترال سکاؤٹس کے اس وقت کے کمانڈنٹ کرنل مراد کی چترال کے عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لئے بہت بڑی خدمت تھی۔

جب شہزادہ محی الدین نوجوان بیوروکریٹ تھے تو اسوقت ریاست چترال کی مغربی پاکستان کے ساتھ ضم ہونے کے بعد سابق ریاست کے افسران کے ساتھ حکومتی برتاؤ سے وہ کافی نالاں تھے، اس دوران صوبہ (سرحد) کے گورنر چترال کے دورے پر آئے ہوئے تھے، چترال پولو گراؤنڈ میں شہزادہ صاحب نے گورنر کا ہاتھ پکڑ کر بغیر کوئی لگی لپٹی لگائے انہیں اس بارے میں بتایا، جو دل میں تھی وہ بات زبان پر لے آیا۔ظاہری بات ہے ایسی جرات کو برداشت کون کرسکتا ہے،اسلئے حکومت کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ شہزادہ صاحب کواپنی ایک ایسی سرکاری ملازمت چھوڑنی پڑی جسکا وہ  اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ہی حصہ بنے تھے۔ شہزادہ صاحب کہا کرتے تھے یہ میرے لئے سب سے اچھا ثابت ہو گیا۔ سرکاری ملازمت میں کہیں جاکر وہ سرکاری نوکر کی حیثیت سے ریٹائر ہوجاتے مگر اس فیصلے نے شہزادہ صاحب کو پہلے ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر سامنے لایا اور اس کے بات وہ ایک صدابہار اور کامیاب سیاستدان کے طور ابھرگئے۔ کاروبار میں قدم رکھتے ہی انہوں نے سب سے پہلے ان غیر مقامی کاروباری طبقے کا سامناکیا جو چترال سے ٹمبر کو زیرین اضلاع لے جانے کے کاروبار پر قبضہ جمائے ہوئے تھے، شہزادہ صاحب کے اس اقدام سے کاروباری حلقوں میں بھونچال آگیا۔ان دنوں چترال کے لوگ اس طرح کاروبار میں نہیں آتے تھے بلکہ انکی زیادہ تر توجہ زراعت پر ہوتی تھی مگر شہزادہ صاحب کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم گو کہ چھوٹا تھا مگر بعد ازاں یہ چترال کے مقامی لوگوں کے لئے ایک”جست“ ثابت ہوئی کیونکہ چترال کے مقامی لوگ بھی اسطرح کاروبار میں آگئے اور انہیں آمدن کے کئی متبادل ذرائع میسر آئے، لوگ کئی قسم کے کاروبار کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ ایک کاروباری شخصیت اور تعمیراتی شعبے سے منسلک ہونے کی وجہ سے شہزادہ صاحب کے کئے ہوئے کام اپنے معیار کی وجہ سے مثالی رہے جن میں سنگور بجلی گھر، موری اور کلکٹک ایری گیشن چینل شامل ہیں جنکی تعمیر کے دوران نہ ہی کوئی اضافی لاگت آئی اور نہ ہی مقررہ وقت سے زیادہ وقت لگا۔ انکا موازنہ اگر آج کل کئے جانے والے کاموں کیساتھ کیا جائے تو بدرجہا بہترین نظر آئینگے۔

جب سیاحت کے وزیر مملکت کی حیثیت سے شہزادہ صاحب نواز شریف کے کابینہ میں موجود تھے تو اس وقت مختلف فورمز میں اپنا مافی الضمیر کا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔جب وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کا استعفیٰ منظور کرلیا تو اس کے بعد ایک پارلیمانی اجلاس میں شہزادہ محی الدین صاحب ان دو راکین میں سے تھے جنہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آرمی چیف کا استعفیٰ منظور کرنا غلط تھا کیونکہ اس ا قدام نے اچھا تاثر نہیں چھوڑا حالانکہ اسوقت اجلاس میں موجود دیگر اراکین وزیرا عظم کی خوشنودی میں لگے ہوئے تھے کہ یہ بہترین اور بہادرانہ فیصلہ قرار دیتے رہے، بعد میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ شہزادہ صاحب کے ساتھی بتاتے ہیں کہ جب 1993میں جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نواز شریف کی حکومت بحال ہو گئی تو اسوقت جب سارے لوگ وزیر اعظم کو مبارکباد دے رہے تھے تو ایک اجلاس میں شہزادہ صاحب نے نواز شریف سے کہا کہ حکومت کی بحالی سے مجھے بھی بہت خوشی ملی ہے مگر مجھے ڈر ہے کہ آپ پہلے والی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائیں کیونکہ آپ غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ ایک وزیر اعظم کے سامنے یہ بات کہنا واقعی میں بڑے دل گردے والے کا کام ہے۔ بعد کے حالات نے شہزادہ صاحب کی بات پر مہر تصدیق ثبت کی کہ واقعی وزیرا عظم سبق نہیں سیکھا تھا۔

ایک مرتبہ برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کے دورہ چترال کے موقع پر مہمان شہزادی نے شاہی قلعہ کا دورہ کرنا تھامگر عین وقت پر پتہ چلا کہ وقت کی کمی کا بہانا بنا کر بعض بیوروکریٹس شاہی قلعے کے دورے کو کینسل کئے ہیں، شہزادہ صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے شہزادی ڈیانا اور اسوقت کے برطانوی ہائی کمشنر نکولس بیرنگٹن کو بتایا کہ یہ عمل قابل قبول نہیں، آپ خود ایک دورہ شیڈول کئے ہیں اور اس علاقے کے سابق حکمران خاند ان کے لوگ آپکے استقبال کی تیاری میں ہیں اور آخری وقت میں آپ دورہ منسوخ کریں، اسکے بعد شہزادی ڈیانا نے شاہی قلعے کا دورہ کیا اور بعد ازاں شہزادی کا طیارہ غروب آفتاب کے بعد چترال سے اڑان بھری۔

شہزادہ محی الدین کی نظر میں سیاست طاقت اور اختیار سے زیادہ عوامی خدمت سے عبارت تھی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کئی سالوں تک وہ اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر رہے۔ سرکاری افسر کی حیثیت سے بھی انہوں نے دل جمعی اور انتھک محنت کے ساتھ کام کیا، لوگوں کے ساتھ قریبی روابط رکھے، لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے آگاہی حاصل کی جو بعد ازاں انکے سیاسی کیئریر میں انکے کام آئے۔

ضلع چترال خیبرپختونخوا کے رقبے کے 20فیصد پر پھیلا ہوا علاقہ ہے، یہاں پر 36وادیاں ہیں ان وادیوں میں سینکڑوں گاؤں آباد ہیں۔چترال کے رقبے کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ بروغل سے لواری ٹاپ تک ایک ہیلی کاپٹر جتنا ٹائم لیتا ہے اتنا ہی وقت چترال سے اسلام آباد پہنچنے میں لگتا ہے۔شہزادہ صاحب اپنے متاثر کن اسٹیمنا، مضبوط اعصاب اور مقوی ذہنی صلاحیتوں کی بدولت چترال سے جڑے رہے، ان دور دراز، دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں گھومتے رہے۔ جسمانی اور ذہنی تھکن سے بے نیاز ہوکر نہ ختم ہونے والا سفر جاری رکھا، پر خطر پگڈنڈیوں پر کئی کئی گھنٹے سفر، کئی کئی گھنٹے پہاڑی سلسلوں میں پیدل مارچ، کئی مواقع ہر مہلک حادثوں سے بال بال بچتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا، دوران سفر جہاں رات ہوگئی وہاں ڈیرے ڈال دیا، گاؤں گاؤں گھومے، رات ہوئی تو کسی گاؤں میں اپنے سیاسی مخالف کے گھر میں مہمان بننے سے نہیں ہچکچائے، لوگوں سے گھل ملتے، انکی خبر گیری کرتے، جس سے بھی ملتے خندہ پیشانی سے ملتے اور گلے لگاتے، لوگوں میں گھل مل جاتے اور لوگ شہزادہ صاحب کی اپنائیت کا گرویدہ ہوتے۔ وہ چند لوگوں میں سے تھے جنہیں چترال کے پانچ سو سے زائد دیہات یا گاؤں چاہے وہ بروغل ہو، تورکہو میں ریچ ہو یا لوٹکوہ میں مداشیل یا پھر ارندو میں رام رام، ان تمام گاؤں کے مسائل اور مشکلات معلوم تھے۔

صوبائی سطح پر سرکاری وسائل آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں، بالخصوص 18ویں ترمیم سے قبل تو حالات اور بھی گھمبیر تھے،ان حالات میں چترال کو اس تناسب سے بہت کم وسائل ملتے ہیں اور یوں چترال کے نمائندوں کے لئے مشکل کھڑی ہوتی ہے کہ وہ اتنے بڑے رقبے پر پھیلے ہوئے مگر کم آبادی والے علاقے کے مسائل کو حل کریں۔ شہزادہ محی الدین اپنے ذاتی تعلقات اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت مرکزی اور صوبائی سطح کے ذمہ داران کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتے اور چترال کیلئے اضافی گرانٹ حاصل کرتے تاکہ لوگوں کے مسائل حل ہوں۔وہ اس بات کے قائل تھے کہ چترال جیسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقے کیلئے ہمہ وقت قومی سیاست سے جڑے رہنا سود مند نہیں بلکہ چترال کی سیاست کا مطمع نظر یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی مصالحت کرکے کہ اس علاقے اور عوام کی ترقی کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کئے جائیں تاکہ لوگوں کی حالت زندگی بہتر ہو۔

لواری ٹنل کی تعمیر سے پہلے چترال میں ترجیحات کے تعین کا نکتہ آج کے دن سے بہت مختلف ہوتا تھا۔ ان دنوں سردیوں کی آمد سے قبل چترال کے دورافتادہ علاقوں میں سرکاری گوداموں میں گندم کی فراہمی کو یقینی بنانا، مسافروں کی بڑی تعداد کو منزل تک پہنچانے کے لئے چترال کے لئے پی آئی اے کے اضافی پروازوں کا بندوبست کرنا اور سردیوں میں افغانستان کے راستے سفر کی اجازت جیسے معاملات بھی درپیش ہوتے تھے۔ مختلف وادیوں تک رسائی کے لئے پل اور سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہہ تھیں۔ بحیثیت چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے اندر 84پل اور مختلف وایوں کو مرکزی سڑک کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے کئی کئی کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کیلئے وسائل پیدا کرنا شہزادہ محی الدین کی انتظامی اورقائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے کہ کس طرح کم وسائل کے اندر رہتے ہوئے کم لاگت پر اتنے زیادہ کام ممکن ہوئے۔ دورافتادہ علاقے جن میں ارکاری، بگوشٹ، لون، گوہکیر، مڈک لشٹ، دامیل، میڑپ، اویر، سونچ، جنجریت کوہ اور ارسون جیسے دورافتادہ وادیوں کے لئے کم لاگت پر سڑکیں تعمیر کرکے انہیں مرکزی سڑک کے ساتھ منسلک کرانا شہزادہ صاحب کا کریڈٹ ہے۔ اسی طرح شہزادہ صاحب کے دور میں مختلف علاقوں میں سکولوں کا جال بچھایا گیا جسکی وجہ سے چترال میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا۔1984میں اقوام متحدہ کے ادارے یونسف(UNICEF) نے خیبر پختونخوا کے دو دیگر اضلاع سمیت چترال کو بھی ماڈل ضلع قرار دیا۔ اس پروگرام کے تحت یونسف کی طرف سے فراہمی آب کے پائپ مل گئے تو بحیثیت چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل شہزادہ صاحب نے ضلع کے دورافتادہ علاقوں میں لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے انکا استعمال کیااور یہ کام انتہائی سرعت اور معیار کے ساتھ مکمل کئے گئے۔ شہزادہ صاحب کو اداروں کے طریقہ کار اور ضابطوں کا بھی بخوبی علم تھا، وہ سمجھتے تھے کہ میدانی علاقوں کے لئے بنائے گئے ضابطے چترال جیسے دشوار گزار پہاڑی علاقے کیلئے مشکلات پیدا کریں گے، اسلئے زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے شہزادہ صاحب ان میں آسانی پیداکرنے کی کوشش کرتے تاکہ علاقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے مگر ساتھ ہی گورنمنٹ کے آڈیٹرز کو واضح طور پر ہدایت کرتے کہ موقع پر جاکر دیکھیں کہ جتنی مالیت کا منصوبہ ہے اتنا کم عملی طور پر ہوا ہے کہ نہیں۔ایسے ہی ایک معائنے کے بعدروڈ کی کوالٹی اور کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے آڈیٹرز نے آکر شہزادہ صاحب کو بتایا کہ اس روڈ کے لئے ڈسٹرکٹ کونسل کو تو تین گنا زیادہ رقم ملنی چاہئے، کیونکہ اتنی کم لاگت میں اتنا کام کرنا حیران کن ہے۔

ایک مرتبہ پرویز مشرف کے دور اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ڈی سی آف چترال میں ایک عوامی نوعیت کے مسئلے پر سیاسی زعماء کا ڈی سی اور دیگر حکام کے ساتھ اجلاس ہورہا تھا، اس مسئلے کے حوالے سے تمام سیاسی زعماء متفق تھے۔ اجلاس میں ایک فوجی آفیسر نے چترالی سیاسی زعماء کے ساتھ بحث کے دوران آنکھیں دکھاکر سب کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تو اس وقت شہزادہ صاحب نے آستین چڑھاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جھگڑا کرنا ہے تو آئیں ورنہ میٹنگ کے ماحول کو خراب نہ کریں اور اخلاق و تمیز کے دائرے میں بات کریں۔

پاکستانی سیاست کی روایت میں لیڈر ہی مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو اپنے ساتھیوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے، چترال میں شہزادہ صاحب کی سرپرستی میں بھی ایک فعال نیٹ ورک موجود تھا۔ مگر سرکاری فنڈاور وسائل کے استعمال کے حوالے سے شہزادہ صاحب کا پختہ عزم تھا کہ جو فنڈ جس مقصد کیلئے آیا ہو اسی پر لگے اور اس مقصد کے لئے شہزادہ صاحب اپنے قریبی ساتھیوں کے کاموں کا سخت جائزہ لیتے اور ایسے منصوبوں کا جائزہ لینے کے دوردراز تک سفر کرتے۔ پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں میں رہنے والے عوام کی حالت زندگی بدلنے کیلئے اقدامات کرنے کا انہیں شدت سے احساس تھا، اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچپن سے شہزادہ صاحب کو ایسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے مصائب اور مشکلات کے مشاہدے کا عملی تجربہ ہوا تھا۔ وہ اس طرح کہ چترال میں عام روایت تھی کہ اپنے نوزائدہ بچوں کو دودھ پلانے کیلئے دوسرے خاندان میں بھیجتے، شہزادہ محی الدین نے اپنا لڑکپن اپنے رضائی خاندان کے ساتھ پسماندہ اور دورافتادہ بیوڑی وادی میں گزارا اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے انہیں روزانہ 25کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ اس وجہ سے عوامی خدمت اور لوگوں کے مسائل میں کمی کا جذبہ ان میں حلول کرگیا۔ انہیں لوگوں کے مصائب اور تکالیف کا شدت کے ساتھ احساس رہتا کہ کس طرح مشکل حالات کا یہ لوگ سامنا کرتے ہیں۔

شہزادہ صاحب کی بلند شخصیت نے چترال کے لوگوں کو فخر اور عزت نفس کا درس دیا، ایک مثال قائم کیا، خودداری اور کردار کے راستے کا تعین کیا کیونکہ باہر سے آنے والے افسر، اہلکار یا کاروباری لوگ عام چترال لوگوں کو کم اہمیت دیتے تھے۔ شہزادہ صاحب کے سیاسی مخالفین بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہیں اور انہیں یاد کرتے ہیں۔

شہزادہ محی الدین کی دوراندیشی نے اس حقیقت کا ادراک کیا تھا کہ چترال کی ترقی میں غیرسرکاری شعبہ مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے اور اس طرح اضافی وسائل میسر آکر مقامی لوگوں کی شمولیت اور گاؤں کی سطح پر مقامی روایات کو بروئے کار لاکر ترقی کے عمل کو تیز کرنا ممکن ہے۔ اسی لئے جب شعیب سلطان خان نے چترال میں شدید مخالفت کے باوجود AKRSPکا بنیاد رکھا تو شہزادہ محی الدین نے کھل کر اسکے ساتھ تعاؤن کیا۔ شعیب سلطان خان اس امر کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ چترال میں مجھے جو سب سے اہم اثاثہ ملا وہ شہزادہ محی الدین تھے اور انکے تعاؤن اور مدد کے بغیر چترال میں اس پروگرام کو چلانا اور کامیاب کرنا ممکن نہیں تھا۔ چترال میں کسی بھی تنازعے یا فرقہ وارنہ یا کسی اور قسم کے تناؤ کے دوران شہزادہ صاحب بہادرانہ انداز میں سامنے آتے اورمظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے، مساجد میں جاتے اور اجتماع سے خطاب کرکے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرتے۔ چترال میں انہوں نے مدبرانہ انداز سے اپنے ترقیاتی اہداف اور مختلف ترقیاتی اداروں کے اہداف کو یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کرکے علاقے میں وسیع پیمانے پر عوامی ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کردار ادا کیا۔ایک مرتبہ جب انہیں معلوم ہوا کہ چترال بین الاقوامی ادارے IFADکی طرف سے چترال کی ترقی کے لئے قائم پراجیکٹ CADPکے فنڈز سہی طریقے سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کے لئے استعمال نہیں ہورہے بلکہ وہ بھی دیہی سطح پر چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں تو شہزادہ صاحب نے اس ادارے کے ذمہ داروں کو قائل کیا کہ وہ چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے بجائے دیہی تنظیمات کو یکجا کرکے انکا کلسٹر بنائیں اور ان کے ذریعے بڑے پیمانے پر کام کروائیں، اس طرح انکی کوششیں کامیاب ہوگئیں اور کلسٹر تنظیموں کے ذریعے ہرتھ، بریشگرام اور ارکاری کی سڑکیں تعمیر ہوگئیں۔ اسی طرح دامیل میں اے کے آرایس پی کے ایک منصوبے کے لئے جب مقامی کمیونٹی کے اپنا حصہ نہیں ڈالا، AKRSPمیں کام کرنے کا ایک طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ مقامی لوگ بھی منصوبے کی لاگت میں اپنا حصہ ڈالتے، اگر ایسا نہ کرتے تو یہ منصوبہ منظور نہیں ہوتا، جب دامیل کے مقامی لوگوں نے اپنا حصہ نہیں ڈالا تو شہزادہ صاحب نے ڈسٹرکٹ کونسل کے فنڈ سے اس بچت کے لئے رقم مہیا کیا تاکہ کمیونٹی کا حصہ اس میں شامل ہو اور علاقے کے ترقی کا ایک منصوبہ ضائع نہ ہو۔ یہ انکی عوام دوستی اور لوگوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کے لئے درد کو ظاہر کرتی ہے۔ شہزادہ صاحب امدادی اداروں سے فنڈ کے حصول کے سلسلے میں مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے اورڈونرز کے سامنے انکی آواز بنتے۔

شہزادہ صاحب کو چترالی بچیوں کی ضلع سے باہربغیر تحقیق کے اور عمررسیدہ مردوں کے ساتھ شادیوں پر بڑا دکھ ہوتا، وہ اسے علاقے کی غربت کی وجہ سے لوگوں کا استحصال سمجھتے تھے اور اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی بنایا تاکہ اس عمل کی روک تھام ہو سکے۔ کئی ایک خواتین نے انکے گھر میں پناہ لی اور شہزادہ صاحب اس بات کو یقینی بناتے کہ ایسے خواتین کی سہی خبرداری ہو اور انکا مسئلہ حل ہو۔

شہزاہ محی الدین کی ایک خاصیت تھی، وہ با اثر و صاحب ثروت لوگوں اور مفلوک الحال اور غریب لوگوں،ہر دو کے ساتھ ایک ہی طرح خوش رہتے، انکے ساتھ گھل مل جاتے، ان سے دلجمعی کے ساتھ گفتگو کرتے۔ قطعاً کوئی تفریق نہیں رکھتے۔

1986میں شہزادہ صاحب نے اقوام متحدہ میں خطاب کیا، جنرل ضیاء الحق کے ساتھ سری لنکا، انڈیا اور مالدیپ کے دورے کئے۔ شہزادہ صاحب خوش لبا س اور خوش گفتا ر شخصیت تھے۔ مہمانداری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، چترال آنے والے مہمانوں اور چترال میں کام کرنے والے غیر چترالی افراد کے ساتھ چترالی روایت کے مطابق خندہ پیشانی، پرخلوص اور پر جوش انداز میں ملتے۔عید کے موقع پر سیردور دروش میں انکے گھر میں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا، لوگ عید ملنے آتے اور گھنٹوں شہزادہ صاحب کے ساتھ بیٹھتے، اپنے مسائل بیان کرتے۔

شہزادہ صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، انہوں نے 1960میں ڈھاکہ (بنگلہ دیش، اسوقت مشرتی پاکستان) میں پاکستان یونیورسٹیز فٹبا ل ٹیم کی قیادت کی اور مدمقابل ریسٹ آف پاکستان کی ٹیم کے خلاف فتح حاصل کی اور اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان سے ایوارڈ حاصل کیا جوکہ چترال جیسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقے کے لئے فخر کی بات ہے۔ چترال میں وہ پولو کھیلتے تھے،ڈی سی مستوج کی حیثیت سے وہ مستوج اور گلگت میں پولو ٹیم کی قیادت کرتے تھے۔ انہیں روایتی ثقافت سے شغف تھا، چترالی فنکاروں کی سرپرستی کرتے، انکے پروگراموں میں بھی شرکت کرتے تھے۔

شہزادہ صاحب ایک پر اثر مقرر تھے، انہیں تقریر میں کمال کا فن حاصل تھے، انکی رعب دار آواز انکے سوچوں کی پختگی اور عزم کو آشکارا کرتی تھی،انکے چاہنے والے عوامی اجتماعات میں اب ہمیشہ کیلئے انکی دلکش اور پر عزم آواز کو ترستے رہینگے۔

اپنے آخری سیاسی سفر میں جب شہزادہ صاحب ممبر قومی اسمبلی تھے تو انہیں اسکیمک کا مرض لاحق ہوگیا اور انکے آنکھوں کی بینائی کمزور ہوتی گئی مگر انہوں نے زندگی کے یہ ایام بھی شان اور بہادری سے گزارے اور بیماری کے دوسالوں میں بھی بحیثیت ممبر قومی اسمبلی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے، عوام کے ساتھ رابطے میں رہے۔ سیاسی سفر سے الگ ہونے کے بعد جب مرض نے انہیں اپنے قابو میں لے لیا تب بھی انہوں نے حوصلے کیساتھ اسکا سامنا کیا۔ ان کی زبان میں کبھی بھی شکایت یا ناامیدی کا ایک لفظ نہیں آیابلکہ ہمہ رب کریم کا شکریہ ادا کرتے رہتے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوم کی خدمت کے لئے منتخب کیا۔ اپنی بیماری کے دوران بھی وہ دوران گفتگو میں مختلف عوامی معاملات کے بارے میں پوچھتے کہ فلاں گاؤں کی سڑک بن گئی کہ نہیں، فلاں گاؤں کے بجلی کا مسئلہ حل ہوا یا نہیں، فلاں جگہ سکول چل رہا ہے کہ نہیں۔

شہزادہ محی الدین ہر گز فرشتے نہیں تھے، بحیثیت انسان انکی بھی کوتاہیاں ہونگی، باوجود اس کے اگر آپ سب چیزوں کو ملا کر دیکھیں تو انکی زندگی عوامی خدمت کے لئے وقف ایک شاندار اور پروقار زندگی تھی اورشہزادہ صاحب ہمیشہ کیلئے چترال کی تاریخ میں شاندار الفاظ میں زندہ رہے گا۔  اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔