بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال میں کام کرنے والے درجنوں کمرشل بنکوں کے اسٹاف نے وفاقی حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ بنکوں میں پہلے سے رائج اوقات کار میں تبدیلی کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیتے ہوئے فائیوورکنگ ڈے کو بحال کیا جائے تاکہ بنک ملازمین کی روزمرہ زندگی میں خلل نہ پڑے۔منگل کے روز چترال پریس کلب میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف بنکوں کے برانچ منیجرز شیر زمان (خیبر بنک) حاجی انعام اللہ (اسلامی بنک)، بشارت علی (مسلم کمرشل بنک)، شاہ نواز (میزان بنک)، امتیاز حسین شاہ (بنک آف پنجاب)، ارشاد یفتالی (خیبر بنک اسلامی برانچ)، محمد نعیم (این آر ایس پی بنک) نے کہاکہ بنکوں میں کام کی نوعیت کے لحاظ سے ورکنگ آوورز صبح 9سے شام 6بجے کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بنک ملازمین کی فیملی اور سوشل لائف پہلے سے متاثر ہے اور ہفتے کے دن کی چھٹی ختم کرنے سے ان کے مسائل اورمشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہوں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ نئی شیڈول کے مطابق ہر روز 3بجے بنک بند کرناا ن کے لئے ممکن نہیں کیونکہ کسٹمرز کے لئے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے اور ہفتے میں پانچ دن کی ایام کار سے بنک اسٹاف اور کسٹمرز دونوں مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہفتے میں چھ دن ایام کار شروع کیاگیا تو بھی وہ معمول کے شام 6بجے سے پہلے اپنے بنک بند نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے کام اور ڈیوٹی کی نوعیت ہی اس طرح کی ہے ورنہ سروس ڈلیوری بہت ہی متاثر ہوگی جس سے عوام متاثر ہوں گے۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعروں پر مشتمل پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جبکہ انہوں نے نئی ٹائم شیڈول نا منظور اور ہفتے کے دن کی چھٹی کی بحالی کیلئے نعرہ بازی بھی کی۔