پیر. اگست 8th, 2022


چترال (بشیر جسین آزاد) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواکے نائب صدر اور تحصیل دروش میں تحصیل چیئرمین شپ کے امیدوار خدیجہ بی بی نے صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ روز گورین گول شیشی کوہ میں ایک پروگرام کے د وران سازش کے تحت ان کے ساتھ بد تمیزی کی گئی اور تشدد کا نشانہ بنایاگیا اور خاتون ہونے کے باوجود انہیں تین گھنٹے تک حبس بیجا میں رکھا گیا لہذا اعلیٰ حکام اس کا نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں۔ دروش میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کھیل میں ڈی ایس پی دروش اجمل خان کا ہاتھ ہے جو کہ ان انتخابی مخالفین کا آلہ کار بن کر ان کے خلاف کام کر رہا ہے اور ان پر تشد کی چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ڈی پی او دروش اجمل خان کو فوری طور پردروش سے تبدیل کیا جائے تاکہ پر امن طریقے سے انتخاب کی تکمیل ہو سکے۔ پریس کانفرنس کے موقع پر پارٹی کے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن نثارباز، تحصیل صدر سید عابد جان اور دوسرے مقامی رہنماؤں شان وردگ، سید اکبر جان اور پارٹی کے کارکنان کی بڑی تعدادموجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں ایک پل کے افتتاح کیلئے گورین گول بلایا گیا اور وہاں استقبال کرنے کے بعداچانک ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور دوپٹہ بھی چھین لی گئی۔ تین گھنٹوں تک انہیں یرغمال بنائے رکھا گیا اور پولیس کو بروقت اطلاع دینے کے باوجود پولیس چارگھنٹے تک موقع پر نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگوں نے بھی اصل واقعہ ایس ایچ او کو بتا دیا تھا لیکن ڈی ایس پی کی جانبداری کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں تک حملہ آوروں کے خلاف پرچہ نہیں کاٹا گیا۔ خدیجہ بی بی نے کہاکہ وہ اتوار کے روز صبح سے شام تک دروش تھانہ میں بیٹھی رہی لیکن ڈی ایس پی نے ان پر دباؤ ڈال کر راضی نامہ کرنے کی کو شش کی۔ اے این پی کے رہنما نے کہا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے اس فیز میں تحصیل چیئرمین شپ کیلئے واحد خاتون امیدوار ہیں اور دروش تحصیل کے عوام نے ان کی زبردست پزیرائی کی اور جو ق در جوق لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں جس پر پہلے بعض امیدواروں نے انہیں پیسے کے لالچ دے کر الیکشن سے دستبردار کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکام ہونے کے بعد اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور مجھے راستے سے ہٹانے اور جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس میں پولیس آفیسر اجمل خان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کا ریجنل پولیس آفیسر اس وقت چترال کے دورے دورے پرہونے کے باوجود ایک خاتون پرحملے کی ایف آئی آر درج نہ ہونا قابل افسوس و قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اے سی دروش اورڈی سی چترال کی طرف سے اس واقعے پر خاموشی برتنے او تماشائی کا کردار ادا کرنے کے عمل کوصوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیا۔انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حملہ میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے کہ ان کے لنکس کس کس کیساتھ جاملتے ہیں۔انہوں نے حملہ آوروں میں گل محمد ولد رشید اللہ،زیرمحمدولداحمد خان، سمیع اللہ ولد طلب خان،قاسم ولدشیر محمد،وقار ولد تاج محمد،تاج محمد ولد سید احمد جان اور منیر احمد ولد نامعلوم کا ناملیا۔انہوں نے ملزمان کے خلاف کاروائی نہ ہونے کی صورت میں بھوک ہڑتال اوراحتجاج کی دھمکی دی۔