بدھ. جون 29th, 2022

چترال(محکم الدین)ضلعی انتظامیہ چترال کی غفلت، لاپرواہی اور بے جاعنایات کی وجہ سے چترال بازار پر ریڑھی والوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ خصوصا ًبائی پاس روڈاور اتالیق بازار پر مکمل کنٹرول کر لیا ہے جس سے گاڑیوں کے گزرنے اور پیدل چلنے والوں کو نقل وحمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی کہ شہری کس قسم کی اذیت سے دوچار ہیں۔ بائی پاس روڈ کانصف حصہ گاڑیوں کی پارکنگ بن چکا ہے جبکہ نصف حصہ ریڑھی والوں کے کاروبار کیلئے مختص ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کیلئے فٹ پاتھ کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔ ریڑھی والوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف سڑک گندگی کے ڈھیربن چکے ہیں وہاں دوسری طرف ہسپتال اورسکول و کالج کے راستوں اور کراسنگ پر جان بوجھ کر ریڑھی کھڑی کرتے ہیں جس سے سکول وکالج کے طالبات اور خواتین کی نقل و حمل میں انتہائی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ عوامی حلقوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے لوگ کسی کے رزق حلال میں مداخلت کرنا پسند نہیں کرتے اور حتی الوسع برداشت اور رواداری سے کام لیتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اس نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے اور پورے چترال شہر کو یرغمال بنایا جائے۔ چترال ایک چھوٹا شہر ہے اس میں روزانہ سینکڑوں غیر مقامی افراد کاروبار کیلئے آجاتے ہیں، اگر ریڑھی والوں کی آمد کا سلسلہ اسی رفتا رسے چترال شہر کی طرف جاری رہا تو آئندہ چترال شہر کے اندر قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا اور ان ڈھیٹ لوگوں سے نمٹنا اس وقت سنگین مسئلہ بن جائے گا۔ عوامی حلقوں نے پر زور مطالبہ کیاہے کہ ان ریڑھی والوں کیلئے مخصوص جگہ کا انتخاب کیا جائے اور بازار ایریا میں بشمول بائی پاس روڈ ان کو سڑک سے ہٹاکر عوام کے نقل وحمل کی راہ میں رکاوٹ دور کی جائے۔