پیر. اگست 8th, 2022

دروش(چ،پ) دروش میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل والی خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور عنقریب عوام کو ان سے چھٹکارا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے اور ہر آنے والا دن عوام پر غذاب بن کر آتا ہے اسلئے وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی اٹھ کھڑے ہوں تاکہ آنے والی بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کا ہر گھر سے صفایا ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ جہان بھی ظلم نا انصافی ہو باچا خان کے پیروکار ان کا مقابلہ کریں گے،چاہے وہ فلسطین میں اسرائیل کا،کشمیر میں ہندوستان کا یا افغانستان میں طالبان کا ہو ہم ہر بندوق اٹھانے والوں کے خلاف ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ باچاخان تقسیم ہند کا اس لئے خلاف تھا کہ اس میں مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرکے تقسیم کرنے سے مسلمانوں کی طاقت کو نقصان پہنچا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم نے قوم کو 1973 کا متفقہ آئین دیا اور اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی آزادی دی اور پختون قوم کو شناخت دی۔ماضی میں ہمیں غدار بھی کہا گیا مگر زمانے نے دیکھا ہماری پالیسی درست تھی اور اے این پی اب بھی اپنی اصولی موقف پر ہے قائم ودائم ہے اور اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کے لئے لڑرہی ہے اور لڑتی رہے گی۔انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ اس مرتبہ جدیجہ بی بی کو ووٹ دے کر کامیاب کریں تاکہ عوامی مسائل حل ہو سکیں۔


جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خدیجہ بی بی نے کہاکہ چترال کی پسماندگی اور ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جانے کے ذمہ دار اس کے منتخب نمائندے ہیں جوکہ مختلف جماعتوں سے مختلف اوقات میں یہاں کے معصوم اور سادہ لوح عوام کے ووٹ تو بٹورتے رہے لیکن اسمبلی میں پہنچنے کے بعد انہوں نے صرف اپنے مفاد کو ترجیح دی اور عوامی مسائل بھول گئے جس کے نتیجے میں چترال پسماندگی کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں یونیورسٹی کے قیام سے لے کر چترال شہرمیں بائی پاس روڈ کی تعمیر اور گولین گول سے چترال شہر کو 45کروڑ اور دروش کے لئے 15کروڑ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی اسکیم، دروش میں گرلز کالج اور درجنوں ہائی اورہائیر سیکنڈری سکول اور دروش میں ہسپتال کی اپ گریڈیشن جیسے کام عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے چترالی عوام کے لئے سرانجام دیئے اوراے این پی حکومت کی چترال سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ حیدر خان ہوتی نے سات مرتبہ چترال کادورہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اب وہ جذبہ خدمت لے کر چترال کی بیٹی کی حیثیت سے میدان میں اترآئی ہیں اور اپنے بزرگوں، بہنوں اور بھائیوں کو یقین دلاتی ہیں کہ وہ اپنی کامیابی کی صورت میں دروش تحصیل کو پورے صوبے میں ایک ماڈل تحصیل بناکر چھوڑ یں گی اور عوامی خدمت کا ایک نشان قائم کرے گی۔ انہوں نے دروش کے عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہیں بیٹی کی حیثیت دے کر بہت ہی پذیرائی کی ہے۔ اے این پی کے ضلعی صدر الحاج عیدالحسین نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔