بدھ. جون 29th, 2022

چترال (محکم الدین) چترال رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے تعاؤن سے ”تدارک منشیات اور ذہنی صحت“ کے حوالے سے یونیورسٹی آف پشاور میں ایک روزہ سمینار منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ممتاز سکالر بشرا ثاقب تھیں جبکہ دیگر شرکاء میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، اساتذہ کرام، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس موقع پر مقررین ممتاز مذہبی سکالر علی اکبر قاضی، پروفیسر ڈاکٹر شاد احمد، ماہر تعلیم شیر ولی خان اسیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں منشیات کے زہر نے پورے معاشرے کو آلودہ کیا ہے جس سے نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور زہر پھیلنے کے اس عمل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتائج ذہنی، فکری، مالی اور خاندان کی تباہی کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اس لئے یہ سمینار منشیات کی وجہ سے زندگی پر پر پڑنے والے مضر اثرات سے متعلق آگہی پھیلانے، روکنے اور ذہنی و عملی منفی سرگرمیوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کرنے کی ایک اچھی کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے پر امن معاشرے میں روز بروز بڑھتے ہوئے معاشرتی برائیاں انتہائی طور پر تشویشناک ہیں اور عدم برداشت ایک مستقل بیماری کی صورت اختیار کرچکی ہے،نتیجتاً خود کشی کے واقعات ہو تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال رورل سپورٹ پروگرام نے اس قسم کے تشویشناک صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے نوجوان طبقے خصوصا طلبہ میں آگہی پھیلانے کیلئے یونیورسٹی آف پشاور کی انتظامیہ اور محققین و دانشور، اساتذہ و طلبہ کے تعاؤن سے جس غیر معمولی سمینار کا انعقاد کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ سمینار کے اختتامی خطاب میں چیف ایگزیکٹیو چترال رورل سپورٹ پروگرام امیرعلی شاہ نے یونیورسٹی انتظامیہ، مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیاکہ وہ صحتمند معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنی ٹیم کے نوجوانوں اور سپورٹروں کے ہمراہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سمینار کے اختتام پر سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔