بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال(گل حماد فاروقی)محکمہ جنگلات چترال کی طرف سے شجرکاری مہم کے سلسلے میں چترال کی خوبصورت وادی بمبوریت کے مقام پر کمیونٹی میں پھلدار اور جنگلی پودے مفت تقسیم کئے گئے۔ یہ پودے چلغوزہ پراجیکٹ کے تحت ان لوگوں کو دئے گئے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کیں۔ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال فرہاد علی اس موقع پر مہمان حصوصی تھے۔ شجرکاری مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایف او نے کہا کہ عمارتی لکڑی کی پرمٹ مقامی لوگوں کا حق ہے اور یہ صرف ان کو ہی دیا جائے گا۔ انہوں نے علاقے کے عمائدین سے کہا کہ جنگلات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے کمیونٹی چیک پوسٹ بھی قائم کریں تاکہ کسی بھی صورت میں یہاں سے غیر قانونی طور پر لکڑی باہر نہ جائے۔
انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان پھلدار اور جنگلی پودے دونوں لگاکر ان کو کامیاب کریں جس سے ان کو مفت پھل کے ساتھ ساتھ جلانے کی لکڑی بھی ملے گی اور اس سے قومی جنگل پر بوجھ کم ہوگا۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ان قدرتی جنگلوں کی حفاظت ضرور کریں کیونکہ ان جنگلوں کی وجہ سے اس وادی کی خوبصورتی قائم ہے، جنگل نہ ہوگا تو نہ یہاں برف باری ہوگی اور یہ سبزہ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کو تازہ آکسیجن ملتا ہے جو نہ صرف انسانی بقاء بلکہ کسی بھی جاندار کیلئے نہایت ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پراونشل کو آرڈنیٹر چلغوہ پراجیکٹ اعجاز احمد نے کہا کہ یہ پھلدار اور جنگلی پودے جو آٹھ ہزار پر مشتمل ہیں ان کو چلغوزہ پراجیکٹ کے تحت مفت دیا جارہا ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ مقامی لوگ ان پودوں کو لگاکر کامیاب کریں جس سے چلغوزے کی جنگل پر بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چلغوزہ ایک کیش فروٹ کے طور پر جانا جاتا ہے جس سے مقامی خواتین، بچے اور مرد سب یکساں طور پر فائدہ حاصل کررہے ہیں اور ہرسال کروڑوں روپے کی آمدنی ان جنگلوں سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ اقوام متحدہ کے FAO اور حکومت پاکستان کے وزارت ماحولیات کی اشتراک سے چل رہا ہے۔جس میں مقامی لوگوں کی تعاون اور اشتراک سے تیس ہزار ہیکٹر رقبے پر چلغوزے کا کامیاب جنگل موجود ہے جبکہ اس میں جس میں چار ہزار ہکٹر رقبے کا مزید اضافہ کیا جائے گا اور چلغوزے کا جنگل مقامی لوگوں کی آمدنی کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس موقع پر ڈی ایف ایم شہزاد احمد، فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے ضیاء الرحمان، محکمہ جنگلات کے اہلکار اور مردوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے خواتین اور بچے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ بعد میں علاقے کے مرد، خواتین اور بچوں میں بھی یہ پودے مفت تقسیم کئے گئے۔