بدھ. جون 29th, 2022

چترال (بشیرحسین آزاد)لاسپور کی معروف سیاسی یفتالی خاندان کے چشم وچراغ سہروردی خان نے مستوج کی تحصیل چیئرمین شپ کے لئے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے لاسپور، مستوج اور یارخون وادیوں کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے ان کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کریں جوکہ ہمیشہ سیاست کے میدان میں ہر سیاسی جماعت کو ووٹ دیئے ہیں اور کامیاب کرائے ہیں لیکن انہیں مایوسی کے سوا کچھ ملا۔ منگل کے روز چترال میں علاقے کے عمائدین صوبیدار میجر قلندر شاہ، سردار خان، زار احمد،شیر اعظم المعروف کمانڈو اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں بھاری مینڈیٹ لے کر کامیاب ہونے والے الیکشن کے بعد بھول کر بھی ان علاقوں کی حالت زار نہیں دیکھی اور اسی بنا پر وہ احساس محرومی کا شکار عوام کیلئے میدان میں کودپڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں انہیں ان علاقوں کے لوگوں کی اشیر باد حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی کے اس برق رفتار دور میں بھی لاسپور،مستوج اور یارخون کے عوام آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، زندگی کے اہم اور بنیادی سہولیات سے محروم یہ قوم آج بھی پتھر کے زمانے میں جی رہی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ان پسماندہ علاقوں میں صرف اے کے ڈی این کے ادارے کا م کر رہے ہیں جہاں صاف پینے کا پانی، صحت کا شعبہ، تعلیم کا معیاری نظام، قدرتی آفات کے وقت لوگوں کو بروقت مدد فراہم کرنا یہ سب غیر سرکاری ادارے کے رحم و کرم پر ہیں۔ سہروردی نے کہاکہ شندورسے لے کر بروغل تک سیاحت کو فروع دینے کے کئی وعدے تو کئے گئے مگر ان علاقوں کی ترقی پر کوئی دھیاں نہیں دیا گیا، صر ف بروغل اور جشن شندور کے موقع پر افسر شاہی کے لئے سڑکوں کے کنارے پتھروں پر سفید رنگ ڈال کر یہ تاثردینے کی ناکام کوشش کی گئی کہ سیاحت کو فروع دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر صحت کے شعبے میں ان دو علاقوں کی حالات پر گہری نظر ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے، وادی یارخون سے لے کر لاسپور تک کسی بھی سرکاری ہسپتال میں آپ کو ڈاکٹر نہیں ملے گا،کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے عمارت اپنی زوال اور بے بسی کا رونا اور مجبوری کی الگ داستان ہے اور ایمرجنسی کے حالات میں کسی بیمار کو بروقت آر ایچ سی ہسپتال پہچانے کے لئے ایمبولینس بھی موجود نہیں ہے۔ اپنی انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ہرویلیچ کونسل میں ایک ڈسپنسری قائم کرنے،علاقے کے تمام بی ایچ یوز اور آر ایچ سی ہسپتالوں کو پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے مکمل ہسپتال کے طور پر چلانے،ہر ویلیچ کونسل میں علاقے کی ضرورت کو مد نظررکھ کر ہائی سکول قائم کرنے، تحصیل مستوج کے اندر بجلی کی فراہمی کو نیشنل گرِڈ کے ذریعے یقینی بنانے،تحصیل مستوج کے اندر پینے کے پانی کی جتنی بھی اسکیموں کو مکمل کرنے،تحصیل مستوج کے حدود کے اندر جتنے بھی مکانات،باغات،زرعی زمینات دریا کے کٹاو سے نقصاں پہنچا ہے وہاں پر انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق مضبوط حفاظتی بند تعمیر کرنے اور تحصیل مستوج کے اندر زرعی زمینوں کوسیراب کرنے کے لئے پرانے نہروں کی بروقت تعمیر کرنے کا ذکرکیا۔ سہروردی نے کامیابی کی صورت میں تحصیل مستوج کے اندر جہاں جہاں قابل کاشت زمین بنجر پڑی ہے ان کے لئے نہری منصوبے جاری کرنے، تحصیل مستوج کے حدود میں رابط سڑکوں کی کمی کو دور کرنے، تحصیل مستوج کے اندر دریااور ندی نالوں پر جگہ جگہ پل تعمیر کرنے،ویلیچ کونسل کے سطح پر کھیلوں کے میدان بنانے، تحصیل مستوج کے حدود میں سیاحو ں کی بہتر سہولت کے لئے ٹورسٹ فسیلیٹی سنٹر قائم کرنے، تحصیل مستوج کے بازاروں میں پینے کے پانی اور عوام کی سہولت کے لئے اڈوں پر انتظار گاہ تعمیر کرنا، شندور اور بروغل میلے کے دوران ٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لے کر ان کی خدشات دور کرنے،بونی شندور روڈ کی تعمیر پر گہری نظر رکھنے یاوربی ایچ یو ہسپتالوں کے لئے ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کیلئے ایمبولینس کی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔