بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد)شاہی مسجد چترال کے خطیب نامور عالمدین مولانا خلیق الزمان کاکاخیل نے کہا ہے کہ شجر کاری اور پودے لگانا سنت عمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہ صرف اس کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی ہے بلکہ اپنے مبارک ہاتھوں سے پودے لگا کر اس کی اہمیت کو اپنے عمل سے اجاگر کیا ہے، اسلام کی نگاہ میں درختوں اور جنگلات کی اس قدر اہمیت ہے کہ خلافت راشدہ میں جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لشکر اسلام کو اسلام کی سرحدات کی طرف روانہ کیا تو اس بات کی بطور خاص تاکید فرمائی کہ سبزے اور درختوں کو مت اجاڑنا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے شاہی مسجد چترال میں اجتماع جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے نمازیوں کی موجودگی میں شاہی مسجد کے صحن میں اپنے ہاتھوں سے پودا بھی لگایا۔ مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے عوام الناس سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کی ذاتی اور انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی اور سماجی زندگی تک ہر ہر قدم پر رہنمائی کی ہے اور زندگی گزارنے کے طور و تہذیب بتلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب کو اپنانے سے انسان کامل بن جاتا ہے اور وہ دنیا اور اس کی ہر چیز کیلئے نفع رساں بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طور طریقوں اور سنتوں کے مطابق اپنی زندگی ڈھالیں تو ہمارا ہر قدم عبادت سے عبارت ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں ماحول کی حفاظت،صفائی ستھرائی کی بڑی اہمیت ہے اور راستوں کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ درختوں اور سبزے کی حفاظت کو بھی انسانیت کی مشترکہ ضرورت بتایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کی حفاظت کیلئے درختوں کی حفاظت کرنا اور پودے لگانا بہت ضروری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے شجرکاری فرمائی ہے، اس لیے ہم اگر شجر کاری کریں تو نہ صرف یہ کہ یہ ہمارے ماحول کیلئے فائدہ مند ہوگی بلکہ یہ عبادت میں بھی شمار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے مدینہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے باغ میں سینکڑوں پودے لگائے ہیں۔ اس لیے پودے لگانا اور درختوں کی حفاظت کرنا اسلامی تہذیب کا ورثہ ہے، نہ کہ جنگلات تباہ کرنا اور درختوں کی بے دریغ کٹائی۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا حکومت اور عوام الناس دونوں کا فرض ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہر شخص کوشش کرے کہ سیزن میں ایک پودا اپنے کھیت، صحن یا گھر کے قریب کہیں بھی لگائے اور اس کی اچھی طرح حفاظت کرے۔