پیر. اگست 8th, 2022


چترال(گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے زیر انتظام چلڈرن اینڈ ویمن ہسپتال جنگ بازار میں جدید سہولیات سے آراستہ نئے چلڈرن یونٹ کا افتتاح ہوا۔ اس سلسلے میں زنانہ ہسپتال جنگ بازار میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک نے کی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر ثلقین سلیم مہمان خصوصی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر گلزار احمد نے کہا کہ نیا یونٹ نومولود بچوں اور ان کی ماؤں کیلئے نہایت مفید رہے گا جہاں جدید مشنری اور مریضوں کے تقاضوں کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا معاملہ نہایت حساس ہے اور معمولی سی غلطی بھی ان کیلئے نقصان دہ ثا بت ہوسکتا ہے تاہم اس نئے یونٹ میں تمام تر سہولیات میسر ہیں اور نومولود بچوں کیلئے نت نئے سامان سے یہ وارڈ مکمل طور پر آراستہ ہے۔
گائناکالوجسٹ ڈاکٹر رابعہ شہاب نے کہا کہ گائنی وارڈ میں حاملہ خواتین کو نہایت مشکلات کا سامنا تھا، اب اس نئے یونٹ میں تمام تر سہولیات میسر ہیں جس سے زچہ بچہ دونوں کیلئے علاج معالجے میں بہت آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ جدید ترین یونٹ بن گیا مگر اس کے چلانے کیلئے عملہ بھی چاہئے جبکہ ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں صرف آٹھ ڈاکٹر دن رات ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں جو کہ نہ صرف مریضوں کیلئے تکلیف کا باعث ہے بلکہ ان ڈاکٹروں کیلئے بھی نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔
ویش انٹرنیشنل کے انجینئرحیدر علی نے کہا کہ اس یونٹ پر 8 کروڑ روپے لاگت آئی اس میں 39 کمرے، 3 انتہائی نگہداشت یونٹ یعنی ICU جس میں آٹھ وارڈز،ڈاکٹروں کیلئے دو دفاتر،کچن اور آپریشن تھیٹر بھی موجود ہے جو دو بیڈ پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اس یونٹ میں لیبر روم اور کیجولٹی روم بھی موجود ہے۔ اس یونٹ میں عملہ کی رہائش کی بھی بندوبست ہے اور پو رے ہسپتال میں شمسی توانائی سے چلنے والی بجلی کا نظام نصب کیا گیا ہے 60KV کا سسٹم یہاں لگایا گیا ہے جس کی بیک اپ کیلئے 32 بیٹریاں رکھی گئی ہیں تاکہ یہاں کسی بھی وقت بجلی منقطع نہ ہو۔ اس یونٹ میں سنٹرلائز یعنی مرکزی طور پر آکسیجن فراہمی کا بندوبست کیا ہوا ہے جو پائپ کے ذریعے ہر وارڈ، آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر وغیرہ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں پائپ لائن کے ذریعے آکسیجن پہنچایا گیا ہے۔
ایم یس ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک نے بتایا کہ اس نئے یونٹ میں پیٹرپ اور ویش انٹرنیشنل کی مالی تعاؤن سے جدید تقاضوں کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں جو محکمہ صحت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور اس سے نومولود بچوں اور ان کی ماؤں کی جانیں بچانے میں اس جدید ترین یونٹ کا کلیدی کردار ہوگا۔ڈاکٹر حیدر الملک نے کہا کہ یہ ہسپتال تقریبا ً چالیس سال پہلے تعمیر ہوا تھا اور اسے از سر نو بنانا چاہئے جبکہ اس کی کیٹگری B میں اپ گریڈیشن بھی پندرہ سال پہلے ہوئی ہے مگر ابھی تک اس میں کیٹیگری بی کی سہولیات میسر نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں 108 ڈاکٹروں کی منظور شدہ آسامیاں ہیں جس میں صرف 44 ڈاکٹرز تعینات ہیں اور 64 آسامیاں اب بھی خالی ہیں جن کو پر کرنے کیلئے بار بار صوبائی محکمہ صحت کو لکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں آگ سے جلنے والے مریضوں کی علاج کیلئے بھی ویش انٹرنیشنل کی مالی تعاؤن سے جدید ترین یونٹ تعمیر ہوچکا ہے مگر اس میں بھی عملہ نہیں ہے اور وہاں بھی برن یعنی آگ سے جلنے والے مریضوں کا علاج نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 69 نئے آسامیوں کیلئے ایس این ای یعنی شیڈول فار نیو اکپنڈیچر بھیجا ہوا ہے اور ساتھ ہی ہم ضلعی انتظامیہ سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ہماری مشکلات صوبائی حکومت تک پہنچائے تاکہ یہاں خالی آسامیاں جلد سے جلد پر کرکے عوام کو سہولت میسر ہوسکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے سی چترال نے ڈاکٹر شہناز اور ڈاکٹر رابعہ شہاب کی خدمات کو نہایت سراہا۔تقریب کے دوران ہینڈ نگ اور ٹیکنگ یعنی یہ یونٹ ڈونر کی جانب سے باقاعدہ طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کو حوالہ ہوا جس کیلئے ایم ایس ڈاکٹر حیدر الملک نے دستاویزات پر دستحط کئے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر حیدر الملک اور اے سی ثقلین نے نئے یونٹ کے افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر افتتاح کیا۔ بعد میں مہمانوں نے اس جدید ترین یونٹ کا معائنہ بھی اور اسے نہایت سراہا کہ چترال جیسے پسماندہ ضلع میں زچہ بچہ کیلئے یہ نہایت جدید ترین یونٹ ہے جس میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تمام تر سہولیات موجود ہیں۔اے سی چترال نے یقین دہائی کرائی کہ ان تمام مطالبات کو صوبائی حکومت تک پہنچائیں گے۔